Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہماری گائے

اسماعیل میرٹھی

ہماری گائے

اسماعیل میرٹھی

MORE BYاسماعیل میرٹھی

    رب کا شکر ادا کر بھائی

    جس نے ہماری گائے بنائی

    اس مالک کو کیوں نہ پکاریں

    جس نے پلائیں دودھ کی دھاریں

    خاک کو اس نے سبزہ بنایا

    سبزے کو پھر گائے نے کھایا

    کل جو گھاس چری تھی بن میں

    دودھ بنی اب گائے کے تھن میں

    سبحان اللہ دودھ ہے کیسا

    تازہ گرم سفید اور میٹھا

    دودھ میں بھیگی روٹی میری

    اس کے کرم نے بخشی سیری

    دودھ دہی اور میٹھا مسکا

    دے نہ خدا تو کس کے بس کا

    گائے کو دی کیا اچھی صورت

    خوبی کی ہے گویا مورت

    دانہ دنکا بھوسی چوکر

    کھا لیتی ہے سب خوش ہو کر

    کھا کر تنکے اور ٹھیٹھرے

    دودھ ہے دیتی شام سویرے

    کیا ہی غریب اور کیسی پیاری

    صبح ہوئی جنگل کو سدھاری

    سبزے سے میدان ہرا ہے

    جھیل میں پانی صاف بھرا ہے

    پانی موجیں مار رہا ہے

    چرواہا چمکار رہا ہے

    پانی پی کر چارا چر کر

    شام کو آئی اپنے گھر پر

    دوری میں جو دن ہے کاٹا

    بچے کو کس پیار سے چاٹا

    گائے ہمارے حق میں ہے نعمت

    دودھ ہے دیتی کھا کے بنسپت

    بچھڑے اس کے بیل بنائے

    جو کھیتی کے کام میں آئے

    رب کی حمد و ثنا کر بھائی

    جس نے ایسی گائے بنائی

    مأخذ :
    • کتاب : Bchchaun ke ismail meruthi (Pg. 100)
    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے