Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یہ بات سمجھ میں آئی نہیں

احمد حاطب صدیقی

یہ بات سمجھ میں آئی نہیں

احمد حاطب صدیقی

MORE BYاحمد حاطب صدیقی

    یہ بات سمجھ میں آئی نہیں

    اور امی نے سمجھائی نہیں

    میں کیسے میٹھی بات کروں

    جب میں نے مٹھائی کھائی نہیں

    آپی بھی پکاتی ہیں حلوہ

    پھر وہ بھی کیوں حلوائی نہیں

    یہ بات سمجھ میں آئی نہیں

    نانی کے میاں تو نانا ہیں

    دادی کے میاں بھی دادا ہیں

    جب آپا سے میں نے یہ پوچھا

    باجی کے میاں کیا باجا ہیں

    وہ ہنس ہنس کر یہ کہنے لگیں

    اے بھائی نہیں اے بھائی نہیں

    یہ بات سمجھ میں آئی نہیں

    جب نیا مہینہ آتا ہے تو

    بجلی کا بل آ جاتا ہے

    حالانکہ بادل بیچارہ

    یہ بجلی مفت بناتا ہے

    پھر ہم نے اپنے گھر بجلی

    بادل سے کیوں لگوائی نہیں

    یہ بات سمجھ میں آئی نہیں

    گر بلی شیر کی خالہ ہے

    تو ہم نے اسے کیوں پالا ہے

    کیا شیر بہت نا لائق ہے

    خالہ کو مار نکالا ہے

    یا جنگل کے راجا کے یہاں

    کیا ملتی دودھ ملائی نہیں

    یہ بات سمجھ میں آئی نہیں

    کیوں لمبے بال ہیں بھالو کے

    کیوں اس کی ٹنڈ کرائی نہیں

    کیا وہ بھی گندہ بچہ ہے

    یا اس کے ابو بھائی نہیں

    یہ اس کا ہیر اسٹائل ہے

    یا جنگل میں کوئی نائی نہیں

    یہ بات سمجھ میں آئی نہیں

    جو تارے جھلمل کرتے ہیں

    کیا ان کی چچی تائی نہیں

    ہوگا کوئی رشتہ سورج سے

    یہ بات ہمیں بتلائی نہیں

    یہ چندا کیسا ماما ہے

    جب امی کا وہ بھائی نہیں

    یہ بات سمجھ میں آئی نہیں

    یہ متن درج ذیل زمرے میں بھی شامل ہے

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے