Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

پیارا ہندوستان

نذیر بنارسی

پیارا ہندوستان

نذیر بنارسی

MORE BYنذیر بنارسی

    جس کا ہے سب کو گیان یہی ہے

    سارے جہاں کی جان یہی ہے

    جس سے ہے اپنی آن یہی ہے

    میرا نواس استھان یہی ہے

    پیارا ہندوستان یہی ہے

    ہنستا پربت ہنس مکھ جھرنا

    پاؤں پسارے گنگا جمنا

    گودی کھولے دھرتی ماتا

    میرا نواس استھان یہی ہے

    پیارا ہندوستان یہی ہے

    ایک تو اونچا سب سے ہمالہ

    اس پر میرے دیش کا جھنڈا

    دھرتی پر آکاش کا دھوکا

    میرا نواس استھان یہی ہے

    پیارا ہندوستان یہی ہے

    پربت کتنا جم کے اڑے ہیں

    کیسے کیسے بھیم کھڑے ہیں

    جھرنے گر گر پاؤں پڑے ہیں

    میرا نواس استھان یہی ہے

    پیارا ہندوستان یہی ہے

    پربت اونچی چوٹی والے

    بانکے ترچھے نوک نکالے

    ارجنؔ جیسے بان سنبھالے

    میرا نواس استھان یہی ہے

    پیارا ہندوستان یہی ہے

    آرتی اس کی چاند اتارے

    اوشا اس کی مانگ سنوارے

    سورج اس پر سب کچھ وارے

    میرا نواس استھان یہی ہے

    پیارا ہندوستان یہی ہے

    جھومتی گائیں ناچتے پنچھی

    ساری دنیا رقص و مستی

    کرشنؔ کی بنسی ہائے رے بنسی

    میرا نواس استھان یہی ہے

    پیارا ہندوستان یہی ہے

    جال بچھائے جال سنبھالے

    کمسن سڑکیں مانگ نکالے

    بال بکھیرے ندی نالے

    میرا نواس استھان یہی ہے

    پیارا ہندوستان یہی ہے

    رات کی ناری ڈوب گئی ہے

    صبح کی دیوی جاگ چکی ہے

    پنگھٹ پر اک بھیڑ لگی ہے

    میرا نواس استھان یہی ہے

    پیارا ہندوستان یہی ہے

    سندر ناری نار سنبھالے

    گھونگھٹ کاڑھے اور ہٹائے

    چلتے پھرتے پریم شوالے

    میرا نواس استھان یہی ہے

    پیارا ہندوستان یہی ہے

    دھرتی کی پوشاک نئی ہے

    کھیتی جیسے سبز پری ہے

    محنت اپنے بل پہ کھڑی ہے

    میرا نواس استھان یہی ہے

    پیارا ہندوستان یہی ہے

    پڑتی بوندیں بجتی پایل

    دھرتی جل تھل پنچھی گھائل

    بولے پپیہا کوکے کوئل

    میرا نواس استھان یہی ہے

    پیارا ہندوستان یہی ہے

    دیش کا ایک اک نین کٹورا

    سارے جہاں پر ڈالے ڈورا

    اپنا جنتا اپنا الورا

    میرا نواس استھان یہی ہے

    پیارا ہندوستان یہی ہے

    تاج محل بے مثل حسینہ

    اس میں ملا کتنوں کا پسینہ

    جب کہیں چمکا ہے یہ نگینہ

    میرا نواس استھان یہی ہے

    پیارا ہندوستان یہی ہے

    عہد وفا کی لاج تو دیکھو

    شاہ کے دل پر راج تو دیکھو

    پریم کے سر پر تاج تو دیکھو

    میرا نواس استھان یہی ہے

    پیارا ہندوستان یہی ہے

    بھارت کی تقدیر کو دیکھو

    جنت کی تصویر کو دیکھو

    آؤ ذرا کشمیر کو دیکھو

    میرا نواس استھان یہی ہے

    پیارا ہندوستان یہی ہے

    ایک اسی کشمیر کا درشن

    کتنوں کے دکھ درد کا درپن

    آس نہائے برسے جیون

    میرا نواس استھان یہی ہے

    پیارا ہندوستان یہی ہے

    ایک طرف بنگال کا جادو

    سر سے کمر تک گیسو ہی گیسو

    پھیلی ہوئی ٹیگورؔ کی خوشبو

    میرا نواس استھان یہی ہے

    پیارا ہندوستان یہی ہے

    کالی بلائیں سر پر پالے

    شام اودھ کی ڈیرا ڈالے

    ایسے میں کون اپنے کو سنبھالے

    میرا نواس استھان یہی ہے

    پیارا ہندوستان یہی ہے

    حسن کی تسکین عشق کی ڈھارس

    واہ رے اپنی صبح بنارس

    گھاٹ کے پتھر جیسے پارس

    میرا نواس استھان یہی ہے

    پیارا ہندوستان یہی ہے

    مندر مسجد اور شوالے

    مانوتا کا بھار سنبھالے

    کتنے یگوں کو دیکھے بھالے

    میرا نواس استھان یہی ہے

    پیارا ہندوستان یہی ہے

    پھولوں کے مکھڑے چوم رہے ہیں

    کالے بھونرے گھوم رہے ہیں

    امن کے بادل جھوم رہے ہیں

    میرا نواس استھان یہی ہے

    پیارا ہندوستان یہی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Nazeer Banarasi (Pg. 18)
    • Author : Nazeer Banarsi
    • مطبع : Educational Publishing House (2014)
    • اشاعت : 2014
    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے