مگر ظلم کے خلاف

ساحر لدھیانوی

مگر ظلم کے خلاف

ساحر لدھیانوی

MORE BY ساحر لدھیانوی

    ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف

    گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی

    ظالم کو جو نہ روکے وہ شامل ہے ظلم میں

    قاتل کو جو نہ ٹوکے وہ قاتل کے ساتھ ہے

    ہم سر بکف اٹھے ہیں کہ حق فتح یاب ہو

    کہہ دو اسے جو لشکر باطل کے ساتھ ہے

    اس ڈھنگ پر ہے زور تو یہ ڈھنگ ہی سہی

    ظالم کی کوئی ذات نہ مذہب نہ کوئی قوم

    ظالم کے لب پہ ذکر بھی ان کا گناہ ہے

    پھلتی نہیں ہے شاخ ستم اس زمین پر

    تاریخ جانتی ہے زمانہ گواہ ہے

    کچھ کور باطنوں کی نظر تنگ ہی سہی

    یہ زر کی جنگ ہے نہ زمینوں کی جنگ ہے

    یہ جنگ ہے بقا کے اصولوں کے واسطے

    جو خون ہم نے نذر دیا ہے زمین کو

    وہ خون ہے گلاب کے پھولوں کے واسطے

    پھوٹے گی صبح امن لہو رنگ ہی سہی

    مآخذ:

    • کتاب : Kulliyat-e-Sahir (Pg. 239)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY