Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

پنگھٹ کی رانی

ساغر نظامی

پنگھٹ کی رانی

ساغر نظامی

MORE BYساغر نظامی

    آئی وہ پنگھٹ کی دیوی، وہ پنگھٹ کی رانی

    دنیا ہے متوالی جس کی اور فطرت دیوانی

    ماتھے پر سیندوری ٹیکا رنگین و نورانی

    سورج ہے آکاش میں جس کی ضو سے پانی پانی

    چھم چھم اس کے بچھوے بولیں جیسے گائے پانی

    آئی وہ پنگھٹ کی دیوی وہ پنگھٹ کی رانی

    کانوں میں بیلے کے جھمکے آنکھیں مے کے کٹورے

    گورے رخ پر تل ہیں یا ہیں پھاگن کے دو بھونرے

    کومل کومل اس کی کلائی جیسے کمل کے ڈنٹھل

    نور سحر مستی میں اٹھائے جس کا بھیگا آنچل

    فطرت کے مے خانے کی وہ چلتی پھرتی بوتل

    آئی وہ پنگھٹ کی دیوی وہ پنگھٹ کی رانی

    رگ رگ جس کی ہے اک باجا اور نس نس زنجیر

    کرشن مراری کی بنسی ہے یا ارجن کا تیر

    سر سے پا تک شوخی کی وہ اک رنگیں تصویر

    پنگھٹ بیکل جس کی خاطر چنچل جمنا نیر

    جس کا رستہ ٹک ٹک دیکھے سورج سا رہ گیر

    آئی پنگھٹ کی دیوی وہ پنگھٹ کی رانی

    سر پر اک پیتل کی گاگر زہرہ کو شرمائے

    شوق پا بوسی میں جس سے پانی چھلکا جائے

    پریم کا ساگر بوندیں بن کر جھوما امڈا آئے

    سر سے برسے اور سینے کے درپن کو چمکائے

    اس درپن کو جس سے جوانی جھانکے اور شرمائے

    آئی پنگھٹ کی دیوی وہ پنگھٹ کی رانی

    مأخذ :
    • کتاب : kulliyat-e-saghar nizami (Pg. 326)
    • Author : muzaffar hanfi

    موضوعات

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے