aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

لڑکوں کا زندگی نامہ

اسنی بدر

لڑکوں کا زندگی نامہ

اسنی بدر

MORE BYاسنی بدر

    کیا زندگی ہماری

    سب کچھ ہے اپنے بس میں

    آزاد ہیں فضائیں

    دنیا ہے دسترس میں

    کیا کیا ہمیں ملا ہے

    کچھ وقت کچھ برس میں

    لیکن جو مڑ کے دیکھیں

    تھی اک عجب کہانی

    دشوار کیسا جینا

    مشکل تھی زندگانی

    اک آفت مسلسل

    آلام ناگہانی

    روزانہ صبح اٹھنا

    آسان تھا نہ اتنا

    ہر روز ڈانٹ کھانا

    ہر روز کا سسکنا

    ہر بات کے تماشے

    ہر بات پر جھگڑنا

    ابا وہیں کھڑے ہیں

    اخبار پڑھ رہے ہیں

    کیا کام ہم کو دے دیں

    ہر وقت سوچتے ہیں

    اولاد کو تو اپنی

    نوکر سمجھ رہے ہیں

    امی کے سامنے تو

    بالکل نہ منہ کو کھولیں

    ہم بد تمیز ٹھہرے

    گو اچھی بات بولیں

    چپ چاپ ہی رہیں بس

    کتنا بھی خوار ہو لیں

    پانی برس رہا ہے

    پر دل ترس رہا ہے

    وہ سائیکل کھڑی ہے

    مانجھا وہیں رکھا ہے

    کنچے یہاں پڑے ہیں

    بلا وہاں کھڑا ہے

    لیکن نہیں ہمیں کیا

    لادے کمر پہ بستہ

    اسکول جا رہے ہیں

    تاریخ کا ہے پرچہ

    اچھا نہیں ہوا تو

    بس بند جیب خرچہ

    اردو کا کام پورا

    کل رات کر لیا تھا

    لیکن ہمیں ریاضی

    بالکل سمجھ نہ آیا

    اللہ کے ہیں بندے

    ہم سے ہے واسطہ کیا

    امی نے صرف ڈانٹا

    بالوں میں تیل ڈالا

    بھیا نے صرف جھڑکا

    باجی نے خوب ٹالا

    سب کے لئے ہے جی میں

    نفرت کا ایک جالا

    بھیا کی سائیکل کی

    کس نے ہوا نکالی

    ہم کو بھلا خبر کیا

    ہر شخص ہے سوالی

    اس نے ہماری چڑیا

    اس دن جو توڑ ڈالی

    سچ ہے بہت ستم تھا

    گویا تھے اک کھلونا

    جیسے ہو سب برابر

    گھر میں نہ ہونا ہونا

    دیکھا نہیں کسی نے

    چھپ چھپ ہمارا رونا

    اب ہو گیا ہے اپنا ہر چیز پر اجارہ

    سب اپنی ذمہ داری

    سب فیصلے ہمارے

    ہر چیز اختیاری

    لیکن وہ بچپنے کی ہے یاد پیاری پیاری

    کیا زندگی ہماری

    کیا زندگی ہماری

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے