شہر علم کے دروازے پر

افتخار عارف

شہر علم کے دروازے پر

افتخار عارف

MORE BY افتخار عارف

    کبھی کبھی دل یہ سوچتا ہے

    نہ جانے ہم بے یقین لوگوں کو نام حیدر سے ربط کیوں ہے

    حکیم جانے وہ کیسی حکمت سے آشنا تھا

    شجیع جانے کہ بدر و خیبر کی فتح مندی کا راز کیا تھا

    علیم جانے وہ علم کے کون سے سفینوں کا نا خدا تھا

    مجھے تو بس صرف یہ خبر ہے

    وہ میرے مولا کی خوشبوؤں میں رچا بسا تھا

    وہ ان کے دامان عاطفت میں پلا بڑھا تھا

    اور اس کے دن رات میرے آقا کے چشم و ابرو و جنبش لب کے منتظر تھے

    وہ رات کو دشمنوں کے نرغے میں سو رہا تھا تو ان کی خاطر

    جدال میں سر سے پاؤں تک سرخ ہو رہا تھا تو ان کی خاطر

    سو اس کو محبوب جانتا ہوں

    سو اس کو مقصود مانتا ہوں

    سعادتیں اس کے نام سے ہیں

    محبتیں اس کے نام سے ہیں

    محبتوں کے سبھی گھرانوں کی نسبتیں اس کے نام سے ہیں

    RECITATIONS

    افتخار عارف

    افتخار عارف

    افتخار عارف

    شہر علم کے دروازے پر افتخار عارف

    ذریعہ:

    • Book: Mahr-e-Do Neem (Pg. 137)
    0
    COMMENT
    COMMENTS
    تبصرے دیکھیے

    Critique mode ON

    Tap on any word to submit a critique about that line. Word-meanings will not be available while you’re in this mode.

    OKAY

    SUBMIT CRITIQUE

    نام

    ای-میل

    تبصره

    Thanks, for your feedback

    Critique draft saved

    EDIT DISCARD

    CRITIQUE MODE ON

    TURN OFF

    Discard saved critique?

    CANCEL DISCARD

    CRITIQUE MODE ON - Click on a line of text to critique

    TURN OFF

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites