Bekhud Dehlvi's Photo'

بیخود دہلوی

1863 - 1955

داغ دہلوی کے شاگرد

داغ دہلوی کے شاگرد

تخلص : 'بیخود'

اصلی نام : سید وحید الدین احمد

پیدائش : 21 Mar 1863, Bharatpur, India

وفات : 02 Oct 1955

آئنہ دیکھ کر وہ یہ سمجھے

مل گیا حسن بے مثال ہمیں

بیخود دہلوی
نام سید وحید الدین، تخلص بیخودؔ ۔ پہلا تخلص نادرؔ تھا۔۲۱؍مارچ ۱۸۶۳ء کو بھرت پور میں پید اہوئے۔ دہلی ان کا مولد ومسکن تھا۔ بیخودؔ نے دہلی میں اردو اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ مولانا حالیؔ سے ’’مہرنیم روز‘‘ اور اساتذہ کے دواوین پڑھے۔ حالیؔ ہی کے ایما سے داغؔ کے شاگرد ہوئے۔ شاعری بیخودؔ کو ورثے میں ملی تھی۔ شاعری میں دلی ٹکسالی زبان،محاورات اور روز مرہ کا استعمال جس خوبی سے بیخود کرتے تھے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اسی وجہ سے تمام اساتذ�ۂ فن نے انھیں داغؔ کا صحیح جانشین تسلیم کیا ہے۔ بیخودؔ خوش پوشاک اور خوش خوراک ہونے کے علاوہ شاہ خرچ بھی تھے۔ ۱۹۴۸ء میں وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے کچھ وظیفہ مقرر کردیا تھا۔ ۱۵۰ روپیہ ماہوار وزارت تعلیم حکومت ہند سے ملتا تھا جس کے سربراہ مولانا ابوالکلام آزاد تھے۔ ان کے دو دیوان’’گفتار بیخود‘‘ اور ’’شہوار بیخود‘‘ طبع ہوچکے ہیں ۔ ۲؍اکتوبر ۱۹۵۵ء کو دہلی میں انتقال ہوا۔

بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد اول)،محمد شمس الحق،صفحہ:236

Added to your favorites

Removed from your favorites