noImage

جرأت قلندر بخش

1748 - 1809 | لکھنؤ, ہندوستان

اپنی شاعری میں محبوب کے ساتھ معاملہ بندی کےمضمون کے لیے مشہور،نوجوانی میں بینائی سے محروم ہوگئے

جرأت، قلندر بخش
اصل نام یحییٰ امان، مگر قلندر بخش کے نام سے مشہور ہوئے۔جرأت تخلص۔ ولادت تقریباً ۱۷۴۹ء۔ وطن دہلی تھا۔ بچپن فیض آباد میں گزرا اور یہیں نشوونما ہوئی۔ مرزا جعفر علی حسرت کے شاگرد تھے۔ نجوم اور موسیقی میں دستگاہ رکھتے تھے۔ستار خوب بجاتے تھے۔جوانی میں بینائی جاتی رہی۔ مشہور ہے کہ آشوب چشم کے بعد جرأت ؔ نے مشہور کر دیا کہ ’’میری آنکھوں کی بینائی جاتی رہی اور مجھے اب کچھ دکھائی نہیں دیتا‘‘۔ اس بہانے رئیسوں اور امیروں کے گھروں میں اندھا بن کر جانے لگے اور خوبصورت عورتوں کو چپکے چپکے تاکنے لگے۔ خدا کا ایسا کرنا ہوا کہ سچ مچ اندھے ہوگئے۔پہلے نواب محبت خاں کی رفاقت میں رہے۔ اس کے بعد مرزا سلیمان شکوہ کے دربار سے وابستہ رہے۔سیدا نشا اور ان کی صحبتیں خوب گرم رہتی تھیں۔جرأت زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے، مگر طبیعت بلا کی پائی تھی۔ جرأتؔ کی ساری زندگی تنگ دستی میں گزری۔ ایک ضخیم کلیات یادگار ہے۔ جس میں غزلیات کے علاوہ مخمسات، مسدسات اور رباعیات شامل ہیں۔۱۰۔۱۸۰۹ء میں لکھنؤ میں وفات پائی۔

Added to your favorites

Removed form your favorites