Ravish Siddiqi's Photo'

روش صدیقی

1909 - 1971 | شاہ جہاں پور, ہندوستان

نیم کلاسیکی انداز کے ممتاز مقبول عام شاعر

نیم کلاسیکی انداز کے ممتاز مقبول عام شاعر

روش صدیقی کا تعارف

تخلص : 'روش'

اصلی نام : شاہد عزیز

پیدائش : 10 Jul 1909 | سہارن پور, اتر پردیش

وفات : 23 Jan 1971 | شاہ جہاں پور, اتر پردیش

اب اس سے کیا غرض یہ حرم ہے کہ دیر ہے

بیٹھے ہیں ہم تو سایۂ دیوار دیکھ کر

شاہد عزیز صدیقی نام، روشؔ تخلص۔ طفیل احمد شاہ کے بیٹے۔ میں جوالاپور ضلع سہارنپور میں پیدا ہوئے۔ اردو فارسی کی معمولی تعلیم گھر پر ہی اپنے والد سے حاصل کی۔ مطالعے کا شوق تھا اس لیے استعداد میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا۔ انگریزی زبان سے بھی کسی حد تک واقفیت حاصل کی۔ غزل سے شعر گوئی کا آغاز کیا۔ بعد میں نظم کی طرف توجہ کی۔ بحیثیت اردو صلاح کار کچھ عرصے تک آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ رہے۔ 1970ء میں شاہجہاں پور میں وفات پائی۔ غزلوں کا مجموعہ’’محراب غزل‘‘ کے نام سے اور ایک طویل فلسفیانہ نظم’’کارواں‘‘ کے نام شائع ہوچکی ہیں۔

کلام روش میں تفکر کا عنصر نمایاں ہے۔ ذاتی کوشش اور محنت سے انہوں نے اپنے مطالعے کو وسعت دی اور غوروفکر ان کا مزاج بن گیا۔ اس لیے ان کے اشعار میں معنوی گہرائی پیدا ہوگئی ہے۔ پیچیدہ جذبات و افکار بول چال کی سہل زبان میں پیش نہیں کیے جاسکتے۔ اس لیے ان کی زبان فارسی آمیز ہے۔ فارسی الفاظ و تراکیب کا انتخاب وہ بہت سوچ سمجھ کر کرتے ہیں اور ان کی خوش آہنگی کو مدنظر رکھتے ہیں۔

روشؔ صدیقی کی شاعری میں کلاسیکی رچاؤ بھی ہے اور جدید فکر کا عنصر بھی جس سے ان کا کلام قدیم و جدید کے امتزاج کا دلکش نمونہ بن گیا ہے۔ شعری وسائل کا وہ بھرپور استعمال کرتے ہیں اس لیے کہیں فرسودہ و پامال مضمون بھی پیش کیا ہے تو حسن ادا سے اسے دلکش بنا دیا ہے۔
روشؔ صدیقی غزل اور نظم دونوں کے شاعر ہیں۔ ایک زمانے میں ان کا رجحان نظم کی طرف رہا لیکن آخر کار وہ غزل کی طرف لوٹ آئے کیوں کہ غزل ہی سے ان کے مزاج کو زیادہ مناسبت ہے۔ ان کی غزل فلسفیانہ مباحث میں نہیں الجھتی، واردات حسن و عشق تک محدود رہتی ہے۔ لیکن اسے گھسے پٹے موضوع کو بھی روش نے اپنے انداز بیان سے شگفتہ بنا دیا ہے۔
ان کے شعری سرمائے کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اگر وہ سنجیدگی سے نظم نگاری کی طرف توجہ کرتے تو اردو شاعری میں قابل قدر اضافہ کرسکتے تھے۔ کشمیر سے متعلق انہوں نے جو نظمیں کہی ہیں وہ ان کے زور بیان کا بھی پتا دیتی ہیں اور محاکات نگاری کی صلاحیت کا بھی۔

روشؔ کی ایک غزل کے چند شعر یہاں پیش کیے جاتے ہیں؎
تذکرہ رہتا ہے دل سے سحر وشام ان کا
لب تک آجائے نہ بھولے سے کہیں نام ان کا
زندگی کیوں ہمہ تن گوش ہوئی جاتی ہے
کبھی آیا ہے جو اب آئے گا پیغام ان کا
جام و مینا سے الجھتے ہیں جو میخوار روشؔ
مسلک بادہ پرستی ہے بہت خام ان کا

موضوعات