Added to your favorites
بے پناہ مقبولیت، محبت میں ناکامی اور معاشی بدحالی نے مجاز کو شراب نوشی کی طرف دھکیل دیا، مگر ان تمام تلخیوں کے باوجود ان کی وضع داری اور خلوص میں کبھی کمی نہیں آئی۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور مجاز کا رشتہ انتہائی گہرا تھا، اور ان کی نظم 'نذرِ علی گڑھ' اس تعلیمی و تہذیبی ادارے کی عظمت کا لافانی ترانہ بن گئی۔
عصمت چغتائی نے مرنے کے بعد جلائے جانے کی وصیت کر کے ایک آخری بار روایت شکنی کی، جس کے پیچھے موت کا خوف اور ان کی مخصوص ضدی طبیعت کارفرما تھی۔
یہ مضمون فراق کی زندگی، ان کی انسان دوستی، تحریک آزادی میں ان کے کردار اور ان کی شاعری میں موجود حیاتِ انسانی کے دکھوں کے بیان پر محیط ہے۔
مرزا غالب کی شخصیت محض ایک عظیم شاعر کی نہیں تھی، بلکہ ان کے اخلاق، دوست پروری اور غریب پروری انہیں ایک عظیم انسان بھی بناتے تھے۔
مرزا غالب کا حافظہ اور سخن فہمی بے مثال تھی۔ وہ بغیر کسی ذاتی کتب خانے کے، محض اپنے قوی حافظے اور تنقیدی بصیرت کے بل بوتے پر علم و ادب کے موتی بکھیرتے تھے۔
شدید مالی بحران اور تنگدستی کے باوجود مرزا غالب نے کبھی اپنی وضع داری اور خودداری پر آنچ نہیں آنے دی، اور زندگی کے معمولات کو ایک خاص نظم کے تحت گزارا۔
Subscribe to Rekhta Newsletter to get all the latest updates