Added to your favorites
اردو اور ہندی کی بنیاد ایک ہونے کے باوجود یہ دونوں ارتقائی منازل طے کر کے دو الگ اور خود مختار زبانیں بن چکی ہیں، اس لیے ان کا رسم الخط ایک ہونا ضروری نہیں۔
اردو رسم الخط خالصتاً ہندوستانی صوتیات کے تابع ہے۔ اس میں ہندی کی ہکار اور معکوسی آوازوں کے لیے سولہ علامتوں کا اضافہ اسے عربی اور فارسی سے ممتاز اور دیسی بناتا ہے۔
آل احمد سرور کے مطابق اردو ایک خالص ہند آریائی زبان ہے جس کی بنیاد کھڑی بولی پر ہے، اور اسے محض عربی یا فارسی کا ضمیمہ سمجھنا اس کی لسانی شناخت کے ساتھ ناانصافی ہے۔
یہ مضمون میر تقی میر، مرزا غالب اور علامہ اقبال کی شاعری کے صوتیاتی نظام کا تقابلی جائزہ پیش کرتا ہے، اور بتاتا ہے کہ اقبال نے کس طرح میر کی نغمگی اور غالب کی شکوہ مندی کو یکجا کیا۔
یہ مضمون علامہ اقبال کی شاعری میں صوتیاتی آہنگ، خاص طور پر صفیری (Sibilants) اور مسلسل (Continuants) آوازوں کے کثرت سے استعمال اور ان سے پیدا ہونے والی فضا سازی کا تجزیہ کرتا ہے۔
اس مضمون میں اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں اردو کی بھاری بھرکم ہکار (Aspirated) اور معکوسی (Retroflex) آوازوں کا استعمال کس قدر کم کیا ہے اور اس سے ان کے شعری اسلوب پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
امیر خسرو، صوفیائے کرام اور بھگتی تحریک کے سنتوں نے کس طرح اردو اور ہندی کی مشترکہ زبان کو عوام کے دلوں تک پہنچنے کا ذریعہ بنایا۔
عظیم شاعری کا ایک بڑا راز یہ ہے کہ مضامین کی نوعیت اور جذبات کے لحاظ سے الفاظ کا انتخاب کیا جائے، کیونکہ ہر لفظ کا اپنا ایک مخصوص مزاج اور وزن ہوتا ہے۔
میر تقی میر کا سب سے بڑا لسانی کارنامہ فارسی تراکیب اور پراکرت (ہندوستانی) الفاظ کا وہ نامیاتی ملاپ ہے جس نے اردو غزل کو ایک نیا اور بے ساختہ آہنگ بخشا۔
اس مضمون میں فراق گورکھپوری کے زبان کے حوالے سے نظریات، اردو کے کھڑی بولی سے تعلق اور مصنوعی زبان کی مخالفت پر بحث کی گئی ہے۔
میر تقی میر کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے عام بول چال اور روزمرہ کی زبان کو استعارے اور رعایت کے ذریعے عظیم شاعری کی زبان میں بدل دیا۔
شمس الرحمن فاروقی کی نظر میں میر تقی میر نے فصاحت پر بلاغت کو ترجیح دی اور زبان کے استعمال میں وہ اپنے ہم عصروں کے مقابلے میں سب سے زیادہ بے باک اور مہم جو تھے۔
اردو اور ہندی زبانوں کی ابتدا، انڈک زبان سے لے کر اپ بھرنشوں اور غزنوی دور میں 'ہندوی' کے ظہور تک کا تاریخی اور لسانی سفر۔
اردو اور ہندی میں مشترک محاوروں، ضرب الامثال اور مرکب الفاظ کا جائزہ، جو دونوں زبانوں کی گہری تہذیبی قربت کو ظاہر کرتا ہے۔
اردو اور ہندی کے درمیان پائی جانے والی حیرت انگیز صوتی، نحوی اور صرفی مماثلتوں کا ایک لسانیاتی تجزیہ۔
Subscribe to Rekhta Newsletter to get all the latest updates