اردو تنقید میں یہ بات تواتر کے ساتھ کہی جاتی ہے کہ غالب نے میر سے بار بار استفادہ کیا ہے۔ تاہم، اس استفادے کی نوعیت کو اکثر غلط سمجھا گیا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی کے مطابق، اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ غالب کا اسلوب میر سے مستعار ہے، یا غالب نے اپنی زندگی کے کسی خاص موڑ پر دانستہ طور پر طرزِ میر کو اپنانے کی کوشش کی۔ درحقیقت، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ غالب اور میر ایک ہی طرح کے شاعر تھے۔ کائنات کے مظاہر اور زندگی کے پیچیدہ تجربات کو شعری پیکر میں ڈھالنے کے لیے دونوں ایک ہی طرح کے وسائلِ اظہار کو پسند کرتے تھے۔
اس رشتے کو سمجھنے کے لیے ہمیں میر کے دیگر مقلدین اور مداحوں پر نظر ڈالنی ہوگی۔ میر کو زبانی خراجِ عقیدت پیش کرنے والوں میں ناسخ اور آتش جیسے اساتذہ بھی شامل ہیں، اور رند جیسے شاعر بھی جو فخریہ کہتے تھے:
شیخ ناسخ خواجہ آتش کے سوا بالفعل رند
شاعرانِ ہند میں کہتے ہیں طرزِ میر ہم
لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان شعراء کے یہاں میر کی روح کا کوئی پرتو نہیں ملتا۔ آتش نے میر کے مضامین ضرور اڑائے، لیکن ان کا تخیل اور مزاج میر کا ساتھ نہ دے سکا، جس کے نتیجے میں ان کا کلام میر کے مضامین کا مقتل بن گیا۔ ناسخ کو تو میر کی فہم ہی نہ تھی۔ ان شعراء کے تعریفی اشعار سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کی نظر میں میر کی شاعری ناقابلِ تقلید تھی، یا پھر انہیں میر کی شاعری کا کوئی عرفان ہی نہ تھا۔
اس کے برعکس، غالب کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ غالب نے میر کے ساتھ وہ برتاؤ کیا جو کوئی بڑا شاعر اپنے کسی عظیم پیش رو کے ساتھ کرتا ہے۔ انہوں نے میر کے تجربات اور وسائلِ اظہار کو اپنا مشعلِ راہ بنایا۔ یہ رشتہ ویسا ہی ہے جیسا ازرا پاؤنڈ اور وسط لاطینی شعراء کے درمیان تھا۔ پاؤنڈ نے ان کی طرح سوچنے کی کوشش کی، لیکن لکھا اپنی طرح۔ غالب کا میر سے استفادہ تقلیدی نہیں بلکہ خالصتاً تخلیقی تھا۔
غالب کا مشہور مقطع:
ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا
یہ محض ایک رسمی خراجِ عقیدت نہیں ہے، بلکہ ایک عظیم تخلیق کار کا دوسرے عظیم تخلیق کار کی فنی عظمت کا اعتراف ہے۔ غالب کے تخلیقی سرچشمے میں جہاں بیدل اور سبکِ ہندی کے دیگر شعراء کے دھارے ملتے ہیں، وہیں میر کا دریائے ذخار بھی پوری قوت سے موجزن ہے۔ ان دونوں کی ذہنی ساخت، طرزِ فکر اور شاعری سے وابستہ توقعات میں جو قرار واقعی مماثلت ہے، وہی غالب کو میر کا سچا اور تخلیقی وارث بناتی ہے۔
