aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khate"
عبدالرحیم خانخاناں
1556 - 1637
مصنف
ویریندر کھرے اکیلا
born.1968
شاعر
چترانش کھرے
born.1989
اتکرش مسافر
born.1990
احمد خاتم اقوالزادے
پریم شنکر کھرے
خاضع الہ آبادی
Khaakee
عبدالرحیم خان خاناں میموریل سوسائٹی، نئی دہلی
ناشر
بیرم خان خان خانان
کھرے پریس، بھوپال
ختم نبوت اکیڈمی، لندن
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، کراچی
کتاب فروشی حاضع، بمبئی
کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت، دیوبند
بجلیاں جس میں ہوں آسودہ وہ خرمن تم ہوبیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن تم ہو
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میںتم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں
غم عشق میں مزا تھا جو اسے سمجھ کے کھاتےیہ وہ زہر ہے کہ آخر مے خوش گوار ہوتا
ہوئے مدفون دریا زیر دریا تیرنے والےطمانچے موج کے کھاتے تھے جو بن کر گہر نکلے
شاعری میں خط کا مضمون عاشق ، معشوق اور نامہ بر کے درمیان کی ایک دلچسپ کہانی ہے ۔ اس کہانی کو شاعروں کے تخیل نے اور زیادہ رنگارنگ بنا دیا ہے ۔ اگر آپ نے خط کو موضوع بنانے والی شاعری نہیں پڑھی تو گویا آپ کلاسیکی شاعری کے ایک بہت دلچسپ حصے سے ناآشنا ہیں ۔ ہم ایک چھوٹا سا انتخاب یہاں پیش کر رہے ہیں اسے پڑھئے اور عام کیجئے ۔
hatehate
نَفرَت
खातेکھاتے
کھاتا (رک) کی جمع نیز مغیرہ صورت ، تراکیب میں مستعمل .
खत्तेکَھتّے
کَھتّا (رک) کی جمع نیز مغیرّہ حالت ؛ مرکبات میں مستعمل.
खट्टेکَھٹّے
ہندی
ترش، کھٹائی والا، جس میں کھٹاس یا تیزابیت ہو، آم اور املی کے ذائقہ والا
خط مرموز
فہمیدہ ریاض
کہانیاں/ افسانے
اردو کا پہلا ناول خط تقدیر
کریم الدین
افسانوی ادب
دیوان غالب بخط عالب
مرزا غالب
دیوان
رہنمائے خط شکست
محمد صادق موسوی
کالیگرافی / خطاطی
خط شکست
محمد طاہر فاروقی
خطوط
خط تقدیر
ایم۔ اسلم
خطّ خیر
رؤف خیر
شاعری تنقید
خط غبار
قیصر حیدری دہلوی
مجموعہ
خط رہ گزر
اکبر حیدرآبادی
خط بیضا
عبدالصمد تپشؔ
مولوی کریم الدین
ناول
خط ابیض
خواتین کی تحریریں
نسخہ عرشی زادہ
رموز خط شکست
حامد حسن قادری
سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کرمزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے
جو لوگ ابھی تک نام وفا کا لیتے ہیںوہ جان کے دھوکے کھاتے، دھوکے دیتے ہیں
دل آشفتگاں خال کنج دہن کےسویدا میں سیر عدم دیکھتے ہیں
دعائیں یاد کرا دی گئی تھیں بچپن میںسو زخم کھاتے رہے اور دعا دئیے گئے ہم
عقل کہتی ہے دوبارہ آزمانا جہل ہےدل یہ کہتا ہے فریب دوست کھاتے جائیے
ہنستے ہوئے ماں باپ کی گالی نہیں کھاتےبچے ہیں تو کیوں شوق سے مٹی نہیں کھاتے
قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھرنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ
ہر اک شکست تمنا پہ مسکراتے ہیںوہ کیا کریں جو مسلسل فریب کھاتے ہیں
کون بچائے گا پھر توڑنے والوں سےپھول اگر شاخوں سے دھوکا کھاتے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books