aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mahak"
صائمہ جبین مہک
born.1986
شاعر
ماہم شاہ
born.1997
ضیا فتح آبادی
1913 - 1986
مذاق بدایونی
1819 - 1894
پیر مہر علی شاہ
مصنف
ماہم خان
born.1995
منیش موہک
born.1998
نواب اختر محل اختر
میک دزدار
1917 - 1971
مانک راؤ وٹھل راؤ
ایم۔اے۔حق
مدیر
مکتبہ مہک، دہلی
ناشر
نواب صدر محل صدر
1840 - 1885
ماہم حیا صفدر
born.1999
ایم۔ اے۔ مارک
اک مہک سمت دل سے آئی تھیمیں یہ سمجھا تری سواری ہے
تجھ سے کھیلی ہیں وہ محبوب ہوائیں جن میںاس کے ملبوس کی افسردہ مہک باقی ہے
اک محل کی آڑ سے نکلا وہ پیلا ماہتابجیسے ملا کا عمامہ جیسے بنیے کی کتاب
جب تجھے یاد کر لیا صبح مہک مہک اٹھیجب ترا غم جگا لیا رات مچل مچل گئی
کیسے گلچیں کے لیے جھکتی ہے خود شاخ گلابکس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ہے
تاج محل کو دنیا بھر میں محبت کی ایک زندہ علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور ساری دنیا کے عاشقوں کے دل اس عمارت سے محبت کے اسی رشتے سے جڑے ہیں ۔ آپ کے دل میں بھی اس عمارت کو دیکھ کر یا اس کے بارے میں سن کر ایک گرمی سی پیدا ہوجاتی ہو گی۔ لیکن شاعری میں تاج محل اور محبت کی یہ کہانی ایک اور ہی رنگ میں نظر آتی ہے ۔ اس کہانی کا یہ نیا رنگ آپ کو حیران کر دے گا ۔
महकمَہَک
ہندی
پھولوں کی خوشبو، تیز مہاوتی یا میٹھی میٹھی بو، بو باس
महकाمَہکا
رک : میکہ جو رائج ہے
महलمَحَل
عربی
اترنے کی جگہ، مقام، منزل، ٹھہرنے کی جگہ، ٹھکانا
मज़ाक़مَذاق
چکھنا، چکھنے کی جگہ یا محل ذائقہ
ماری کلیر کی مہک
حبیب سالمی
ناول
بھیگے موسموں کی مہک
آہ سنبھلی
غزل
اردو ترجمہ محک الفقر کلاں
حضرت سلطان باہو
تحقیق
یادوں کی مہک
فصیح احمد صدیقی
مہک
عابد اختر
مجموعہ
مہک چھوڑ گئے
تابش مہدی
مضامین
اپنی مٹی کی مہک
اشفاق برادر
افسانہ
تازہ روٹی کی مہک
مہدی ٹونکی
پریم چند کے ناولوں میں دھرتی کی مہک
ڈاکٹر نریش
ناول تنقید
مہک اٹھی پھلواری
سید موسٰی کاظم
مٹی کی مہک
افسر دکنی
رنگ مہک مہک اٹھے
منور سلطانہ
رومانی
اکبر یوسفی
بھینی بھینی مہک
ظفر عدیم
روشنی، خوشبو، مہک
صلاح الدین نیر
مست ہوں میں مہک سے اس گل کیجو کسی باغ میں کھلا ہی نہیں
مہک رہی ہے زمیں چاندنی کے پھولوں سےخدا کسی کی محبت پہ مسکرایا ہے
عجب مہک تھی مرے گل ترے شبستاں کیسو بلبلوں کے وہاں آشیانے ہو گئے ہیں
سرخ پھولوں سے مہک اٹھتی ہیں دل کی راہیںدن ڈھلے یوں تری آواز بلاتی ہے ہمیں
تو کسی اور ہی دنیا میں ملی تھی مجھ سےتو کسی اور ہی منظر کی مہک لائی تھی
ہر ایک رنگ ترے روپ کی جھلک لے لےکوئی ہنسی کوئی لہجہ کوئی مہک لے لے
کاکلوں کی مہکآرزومند سینوں کی اپنے پسینے میں جلنے کی بو
تیرے ہاتھوں کی حرارت ترے سانسوں کی مہکتیرتی رہتی ہے احساس کی پہنائی میں
جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہکان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books