aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "Daal"
پوچھا جو ان سے چاند نکلتا ہے کس طرحزلفوں کو رخ پہ ڈال کے جھٹکا دیا کہ یوں
شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہےجس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے
شکن نہ ڈال جبیں پر شراب دیتے ہوئےیہ مسکراتی ہوئی چیز مسکرا کے پلا
یہ کہہ کے اس نے مجھے مخمصے میں ڈال دیاملاؤ ہاتھ اگر واقعی محبت ہے
اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہےمگر چراغ نے لو کو سنبھال رکھا ہے
ابر میں چاند گر نہ دیکھا ہورخ پہ زلفوں کو ڈال کر دیکھو
پرانے لوگ دریاؤں میں نیکی ڈال آتے تھےہمارے دور کا انسان نیکی کر کے چیخے گا
اک رات دل جلوں کو یہ عیش وصال دےپھر چاہے آسمان جہنم میں ڈال دے
اسے کسی سے محبت نہ تھی مگر اس نےگلاب توڑ کے دنیا کو شک میں ڈال دیا
جیے جاتے ہیں پستی میں ترے سارے جہاں والےکبھی نیچے بھی نظریں ڈال اونچے آسماں والے
دیکھا تو سب کے سر پہ گناہوں کا بوجھ تھاخوش تھے تمام نیکیاں دریا میں ڈال کر
بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیںعجیب رسم چلی ہے دعا نہ مانگے کوئی
عمر کا ایک اور سال گیاوقت پھر ہم پہ خاک ڈال گیا
ہر شب شب برات ہے ہر روز روز عیدسوتا ہوں ہاتھ گردن مینا میں ڈال کے
یہ محبت بھی ایک نیکی ہےاس کو دریا میں ڈال آتے ہیں
دنیا پہ اپنے علم کی پرچھائیاں نہ ڈالاے روشنی فروش اندھیرا نہ کر ابھی
جس دن مری جبیں کسی دہلیز پر جھکےاس دن خدا شگاف مرے سر میں ڈال دے
رکھ نہ آنسو سے وصل کی امیدکھارے پانی سے دال گلتی نہیں
اس نے سن کر بات میری ٹال دیالجھنوں میں اور الجھن ڈال دی
مومنؔ خدا کے واسطے ایسا مکاں نہ چھوڑدوزخ میں ڈال خلد کو کوئے بتاں نہ چھوڑ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books