aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "KHuliye"
یہ اڑی اڑی سی رنگت یہ کھلے کھلے سے گیسوتری صبح کہہ رہی ہے تری رات کا فسانہ
آنکھیں کھلیں تو جاگ اٹھیں حسرتیں تماماس کو بھی کھو دیا جسے پایا تھا خواب میں
شام ہوتے ہی کھلی سڑکوں کی یاد آتی ہےسوچتا روز ہوں میں گھر سے نہیں نکلوں گا
راستے ہیں کھلے ہوئے سارےپھر بھی یہ زندگی رکی ہوئی ہے
جب عشق سکھاتا ہے آداب خودآگاہیکھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی
اندر کی دنیا سے ربط بڑھاؤ آنسؔباہر کھلنے والی کھڑکی بند پڑی ہے
چہرہ کھلی کتاب ہے عنوان جو بھی دوجس رخ سے بھی پڑھو گے مجھے جان جاؤ گے
کھلی کتاب تھی پھولوں بھری زمیں میریکتاب میری تھی رنگ کتاب اس کا تھا
اب تو یہ آرزو ہے کہ وہ زخم کھائیےتا زندگی یہ دل نہ کوئی آرزو کرے
ہم کسی کو گواہ کیا کرتےاس کھلے آسمان کے آگے
میں آئینہ بنوں گا تو پتھر اٹھائے گااک دن کھلی سڑک پہ یہ نوبت بھی آئے گی
مرنے کے وقت بھی مری آنکھیں کھلی رہیںعادت جو پڑ گئی تھی ترے انتظار کی
کھلی فضا میں اگر لڑکھڑا کے چل نہ سکیںتو زہر پینا ہے بہتر شراب پینے سے
کھلی چھتوں سے چاندنی راتیں کترا جائیں گیکچھ ہم بھی تنہائی کے عادی ہو جائیں گے
ذرا قریب سے دیکھوں تو کوئی راز کھلےیہاں تو ہر کوئی لگتا ہے آدمی جیسا
نہیں اس کھلی فضا میں کوئی گوشۂ فراغتیہ جہاں عجب جہاں ہے نہ قفس نہ آشیانہ
خلوص دل سے سجدہ ہو تو اس سجدے کا کیا کہناوہیں کعبہ سرک آیا جبیں ہم نے جہاں رکھ دی
انا انا کے مقابل ہے راہ کیسے کھلےتعلقات میں حائل ہے بات کی دیوار
سو گئے لوگ اس حویلی کےایک کھڑکی مگر کھلی ہے ابھی
ملا نہ گھر سے نکل کر بھی چین اے زاہدؔکھلی فضا میں وہی زہر تھا جو گھر میں تھا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books