aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aadat"
آپ پہلو میں جو بیٹھیں تو سنبھل کر بیٹھیںدل بیتاب کو عادت ہے مچل جانے کی
وقت رہتا نہیں کہیں ٹک کرعادت اس کی بھی آدمی سی ہے
مجھ کو عادت ہے روٹھ جانے کیآپ مجھ کو منا لیا کیجے
پہلے اس میں اک ادا تھی ناز تھا انداز تھاروٹھنا اب تو تری عادت میں شامل ہو گیا
مجھے تنہائی کی عادت ہے میری بات چھوڑیںیہ لیجے آپ کا گھر آ گیا ہے ہات چھوڑیں
ظالم تھا وہ اور ظلم کی عادت بھی بہت تھیمجبور تھے ہم اس سے محبت بھی بہت تھی
اسے کیوں ہم نے دیا دل جو ہے بے مہری میں کامل جسے عادت ہے جفا کیجسے چڑھ مہر و وفا کی جسے آتا نہیں آنا غم و حسرت کا مٹانا جو ستم میں ہے یگانہجسے کہتا ہے زمانہ بت بے مہر و دغا باز جفا پیشہ فسوں ساز ستم خانہ بر اندازغضب جس کا ہر اک ناز نظر فتنہ مژہ تیر بلا زلف گرہ گیر غم و رنج کا بانی قلق و دردکا موجب ستم و جور کا استاد جفا کاری میں ماہر جو ستم کیش و ستم گر جو ستم پیشہ ہےدلبر جسے آتی نہیں الفت جو سمجھتا نہیں چاہت جو تسلی کو نہ سمجھے جو تشفی کو نہجانے جو کرے قول نہ پورا کرے ہر کام ادھورا یہی دن رات تصور ہے کہ ناحقاسے چاہا جو نہ آئے نہ بلائے نہ کبھی پاس بٹھائے نہ رخ صاف دکھائے نہ کوئیبات سنائے نہ لگی دل کی بجھائے نہ کلی دل کی کھلائے نہ غم و رنج گھٹائے نہ رہ و رسمبڑھائے جو کہو کچھ تو خفا ہو کہے شکوے کی ضرورت جو یہی ہے تو نہ چاہو جو نہچاہو گے تو کیا ہے نہ نباہو گے تو کیا ہے بہت اتراؤ نہ دل دے کے یہ کس کام کا دلہے غم و اندوہ کا مارا ابھی چاہوں تو میں رکھ دوں اسے تلووں سے مسل کر ابھی منہدیکھتے رہ جاؤ کہ ہیں ان کو ہوا کیا کہ انہوں نے مرا دل لے کے مرے ہاتھ سے کھویا
اے غم زندگی نہ ہو ناراضمجھ کو عادت ہے مسکرانے کی
عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیرؔ اپنیجس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا
صادق ہوں اپنے قول کا غالبؔ خدا گواہکہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے
ذرا روٹھ جانے پہ اتنی خوشامدقمرؔ تم بگاڑو گے عادت کسی کی
میں جسے پیار کا انداز سمجھ بیٹھا ہوںوہ تبسم وہ تکلم تری عادت ہی نہ ہو
عادت کے بعد درد بھی دینے لگا مزاہنس ہنس کے آہ آہ کئے جا رہا ہوں میں
ایک عادت سی بن گئی ہے تواور عادت کبھی نہیں جاتی
ترے بھول جانے کی عادت کے صدقےتجھے بھول جانے کو جی چاہتا ہے
مجھے مایوس بھی کرتی نہیں ہےیہی عادت تری اچھی نہیں ہے
مجھ کو دشمن کے ارادوں پہ بھی پیار آتا ہےتری الفت نے محبت مری عادت کر دی
اپنی اس عادت پہ ہی اک روز مارے جائیں گےکوئی در کھولے نہ کھولے ہم پکارے جائیں گے
آنکھ رکھتے ہو تو اس آنکھ کی تحریر پڑھومنہ سے اقرار نہ کرنا تو ہے عادت اس کی
ظالم کی تو عادت ہے ستاتا ہی رہے گااپنی بھی طبیعت ہے بہلتی ہی رہے گی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books