aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "andaaz"
انداز اپنا دیکھتے ہیں آئنے میں وہاور یہ بھی دیکھتے ہیں کوئی دیکھتا نہ ہو
زندگی ایک فن ہے لمحوں کواپنے انداز سے گنوانے کا
ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھےکہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور
پہلے اس میں اک ادا تھی ناز تھا انداز تھاروٹھنا اب تو تری عادت میں شامل ہو گیا
آفت تو ہے وہ ناز بھی انداز بھی لیکنمرتا ہوں میں جس پر وہ ادا اور ہی کچھ ہے
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہےتمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے
اسے کیوں ہم نے دیا دل جو ہے بے مہری میں کامل جسے عادت ہے جفا کیجسے چڑھ مہر و وفا کی جسے آتا نہیں آنا غم و حسرت کا مٹانا جو ستم میں ہے یگانہجسے کہتا ہے زمانہ بت بے مہر و دغا باز جفا پیشہ فسوں ساز ستم خانہ بر اندازغضب جس کا ہر اک ناز نظر فتنہ مژہ تیر بلا زلف گرہ گیر غم و رنج کا بانی قلق و دردکا موجب ستم و جور کا استاد جفا کاری میں ماہر جو ستم کیش و ستم گر جو ستم پیشہ ہےدلبر جسے آتی نہیں الفت جو سمجھتا نہیں چاہت جو تسلی کو نہ سمجھے جو تشفی کو نہجانے جو کرے قول نہ پورا کرے ہر کام ادھورا یہی دن رات تصور ہے کہ ناحقاسے چاہا جو نہ آئے نہ بلائے نہ کبھی پاس بٹھائے نہ رخ صاف دکھائے نہ کوئیبات سنائے نہ لگی دل کی بجھائے نہ کلی دل کی کھلائے نہ غم و رنج گھٹائے نہ رہ و رسمبڑھائے جو کہو کچھ تو خفا ہو کہے شکوے کی ضرورت جو یہی ہے تو نہ چاہو جو نہچاہو گے تو کیا ہے نہ نباہو گے تو کیا ہے بہت اتراؤ نہ دل دے کے یہ کس کام کا دلہے غم و اندوہ کا مارا ابھی چاہوں تو میں رکھ دوں اسے تلووں سے مسل کر ابھی منہدیکھتے رہ جاؤ کہ ہیں ان کو ہوا کیا کہ انہوں نے مرا دل لے کے مرے ہاتھ سے کھویا
دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والاوہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا
اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیازندگی چھوڑ دے پیچھا مرا میں باز آیا
میں جسے پیار کا انداز سمجھ بیٹھا ہوںوہ تبسم وہ تکلم تری عادت ہی نہ ہو
انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہےشاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
اس شہر میں جینے کے انداز نرالے ہیںہونٹوں پہ لطیفے ہیں آواز میں چھالے ہیں
سیفؔ انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہےورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں
یہ دلبری یہ ناز یہ انداز یہ جمالانساں کرے اگر نہ تری چاہ کیا کرے
خوب رو ہیں سیکڑوں لیکن نہیں تیرا جوابدل ربائی میں ادا میں ناز میں انداز میں
پردۂ لطف میں یہ ظلم و ستم کیا کہیےہائے ظالم ترا انداز کرم کیا کہیے
حسن کو حسن بنانے میں مرا ہاتھ بھی ہےآپ مجھ کو نظر انداز نہیں کر سکتے
بلبل غزل سرائی آگے ہمارے مت کرسب ہم سے سیکھتے ہیں انداز گفتگو کا
انداز ہو بہ ہو تری آواز پا کا تھادیکھا نکل کے گھر سے تو جھونکا ہوا کا تھا
ایک ہی شے تھی بہ انداز دگر مانگی تھیمیں نے بینائی نہیں تجھ سے نظر مانگی تھی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books