aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "bazaar-e-azal"
جنس وفا کا دہر میں بازار گر گیاجب عشق فیض حسن کا حامل نہیں رہا
وحشت دل کے خریدار بھی ناپید ہوئےکون اب عشق کے بازار میں کھولے گا دکاں
نہ آیا شام بھی گھر پھر کے اپنےتماشائی بازار محبت
از روز ازل ہے کہ نہیں ہے کا ہے محشراور اس کا جواب آج بھی ہاں بھی ہے نہیں بھی
قلقل مینا صدا ناقوس کی شور اذاںٹھنڈے ٹھنڈے دیدنی ہے گرمیٔ بازار صبح
یہ مانا شیشۂ دل رونق بازار الفت ہےمگر جب ٹوٹ جاتا ہے تو قیمت اور ہوتی ہے
تیرے بازار دہر میں گردوںہم بھی آئے ہیں اک قبا کے لئے
ساقی نے نگاہوں سے پلا دی ہے غضب کیرندان ازل دیکھیے کب ہوش میں آئیں
انہیں کے فیض سے بازار عقل روشن ہےجو گاہ گاہ جنوں اختیار کرتے رہے
میں بستر خیال پہ لیٹا ہوں اس کے پاسصبح ازل سے کوئی تقاضا کیے بغیر
اسے صبح ازل انکار کی جرأت ہوئی کیونکرمجھے معلوم کیا وہ رازداں تیرا ہے یا میرا
پھر اس کے بعد یہ بازار دل نہیں لگناخرید لیجئے صاحب غلام آخری ہے
کی ہے استاد ازل نے یہ رباعی موزوںچار عنصر سے کھلے معنیٔ پنہاں ہم کو
آج تک صبح ازل سے وہی سناٹا ہےعشق کا گھر کبھی شرمندۂ مہماں نہ ہوا
کی ہے استاد ازل نے یہ رباعی موزوںچار عنصر کے سوا اور ہے انسان میں کیا
ابد کے دوش پہ سوئے ازل چلے ہیں کہ ہمنیا ہی نقش کوئی دہر کا بناتے ہیں
بازار آرزو میں کٹی جا رہی ہے عمرہم کو خرید لے وہ خریدار چاہئے
کچھ کمایا نہیں بازار خبر میں رہ کربند دکان کریں بے خبری پیشہ کریں
بظاہر گرم ہے بازار الفتمگر جنس وفا کم ہو گئی ہے
ہمارا دل ذرا اکتا گیا تھا گھر میں رہ رہ کریونہی بازار آئے ہیں خریداری نہیں کرنی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books