aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "chuu.dii"
سحر ہوتے ہی کوئی ہو گیا رخصت گلے مل کرفسانے رات کے کہتی رہی ٹوٹی ہوئی چوڑی
اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھےبے حس بنا چکی ہے بہت زندگی مجھے
مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھااس کو چھٹی نہ ملے جس کو سبق یاد رہے
مل رہی ہو بڑے تپاک کے ساتھمجھ کو یکسر بھلا چکی ہو کیا
اے دل بے قرار چپ ہو جاجا چکی ہے بہار چپ ہو جا
ہاتھ ٹوٹیں میں نے گر چھیڑی ہوں زلفیں آپ کیآپ کے سر کی قسم باد صبا تھی میں نہ تھا
اے ذوقؔ دیکھ دختر رز کو نہ منہ لگاچھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی
غالبؔ چھٹی شراب پر اب بھی کبھی کبھیپیتا ہوں روز ابر و شب ماہ تاب میں
دفتر سے مل نہیں رہی چھٹی وگرنہ میںبارش کی ایک بوند نہ بیکار جانے دوں
فصل بہار آئی پیو صوفیو شراببس ہو چکی نماز مصلیٰ اٹھائیے
غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دیناذرا عمر رفتہ کو آواز دینا
لوگ کہتے ہیں رات بیت چکیمجھ کو سمجھاؤ! میں شرابی ہوں
محبت، ہجر، نفرت مل چکی ہےمیں تقریباً مکمل ہو چکا ہوں
برسات تھم چکی ہے مگر ہر شجر کے پاساتنا تو ہے کہ آپ کا دامن بھگو سکے
جتنی بٹنی تھی بٹ چکی یہ زمیںاب تو بس آسمان باقی ہے
تصور میں بھی اب وہ بے نقاب آتے نہیں مجھ تکقیامت آ چکی ہے لوگ کہتے ہیں شباب آیا
کبھی چھوڑی ہوئی منزل بھی یاد آتی ہے راہی کوکھٹک سی ہے جو سینے میں غم منزل نہ بن جائے
بعد مرنے کے بھی چھوڑی نہ رفاقت میریمیری تربت سے لگی بیٹھی ہے حسرت میری
میں فیصلے کی گھڑی سے گزر چکی ہوں مگرکسی کا دیدۂ حیراں مری تلاش میں ہے
دلی چھٹی تھی پہلے اب لکھنؤ بھی چھوڑیںدو شہر تھے یہ اپنے دونوں تباہ نکلے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books