aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "dear"
زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیںپاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے
دل کو تری چاہت پہ بھروسہ بھی بہت ہےاور تجھ سے بچھڑ جانے کا ڈر بھی نہیں جاتا
مجھے اب تم سے ڈر لگنے لگا ہےتمہیں مجھ سے محبت ہو گئی کیا
ہمیں ہے شوق کہ بے پردہ تم کو دیکھیں گےتمہیں ہے شرم تو آنکھوں پہ ہاتھ دھر لینا
ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابشؔمیں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے
گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیساگر جیت گئے تو کیا کہنا ہارے بھی تو بازی مات نہیں
مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیںجو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
لپٹ جاتے ہیں وہ بجلی کے ڈر سےالٰہی یہ گھٹا دو دن تو برسے
مجھے یہ ڈر ہے تری آرزو نہ مٹ جائےبہت دنوں سے طبیعت مری اداس نہیں
ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیںاتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں
راستہ سوچتے رہنے سے کدھر بنتا ہےسر میں سودا ہو تو دیوار میں در بنتا ہے
جس طرف تو ہے ادھر ہوں گی سبھی کی نظریںعید کے چاند کا دیدار بہانہ ہی سہی
ہوگا کسی دیوار کے سائے میں پڑا میرؔکیا ربط محبت سے اس آرام طلب کو
ڈر ہم کو بھی لگتا ہے رستے کے سناٹے سےلیکن ایک سفر پر اے دل اب جانا تو ہوگا
کون سی جا ہے جہاں جلوۂ معشوق نہیںشوق دیدار اگر ہے تو نظر پیدا کر
اتنی پی جائے کہ مٹ جائے میں اور تو کی تمیزیعنی یہ ہوش کی دیوار گرا دی جائے
کچھ نظر آتا نہیں اس کے تصور کے سواحسرت دیدار نے آنکھوں کو اندھا کر دیا
خدا سے مانگ جو کچھ مانگنا ہے اے اکبرؔیہی وہ در ہے کہ ذلت نہیں سوال کے بعد
رسوا ہوئے ذلیل ہوئے در بدر ہوئےحق بات لب پہ آئی تو ہم بے ہنر ہوئے
غم حیات نے آوارہ کر دیا ورنہتھی آرزو کہ ترے در پہ صبح و شام کریں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books