aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "gashta"
زندگی فردوس گم گشتہ کو پا سکتی نہیںموت ہی آتی ہے یہ منزل دکھانے کے لیے
اس نے آنچل سے نکالی مری گم گشتہ بیاضاور چپکے سے محبت کا ورق موڑ دیا
کس لیے کیجے کسی گم گشتہ جنت کی تلاشجب کہ مٹی کے کھلونوں سے بہل جاتے ہیں لوگ
اس کو رہتا ہے ہمیشہ مری وحشت کا خیالمیرے گم گشتہ غزالوں کا پتا چاہتی ہے
سوچتے اور جاگتے سانسوں کا اک دریا ہوں میںاپنے گم گشتہ کناروں کے لیے بہتا ہوں میں
کرتا ہے اے اثرؔ دل خوں گشتہ کا گلہعاشق وہ کیا کہ خستۂ تیغ جفا نہ ہو
رہے ذرا دل خوں گشتہ پر نظر انجمؔاسی صدف سے عجب کیا گہر نکل آئے
گنبد میں گردباد کے مجنوں نے گھر کیاسرگشتہ ایسا کون کہ چکر میں گھر کرے
منظر سرو و سمن یاد آیاپھر سے گم گشتہ وطن یاد آیا
مٹی پہ نمودار ہیں پانی کے ذخیرےان میں کوئی عورت سے زیادہ نہیں گہرا
گھسیٹتے ہوئے خود کو پھرو گے زیبؔ کہاںچلو کہ خاک کو دے آئیں یہ بدن اس کا
زخم کہتے ہیں دل کا گہنہ ہےدرد دل کا لباس ہوتا ہے
لوگ دیتے رہے کیا کیا نہ دلاسے مجھ کوزخم گہرا ہی سہی زخم ہے بھر جائے گا
وو آدمی نہیں ہے مکمل بیان ہےماتھے پہ اس کے چوٹ کا گہرا نشان ہے
گھٹا دیکھ کر خوش ہوئیں لڑکیاںچھتوں پر کھلے پھول برسات کے
بزم سے دور وہ گاتا رہا تنہا تنہاسو گیا ساز پہ سر رکھ کے سحر سے پہلے
چھیڑ کر جیسے گزر جاتی ہے دوشیزہ ہوادیر سے خاموش ہے گہرا سمندر اور میں
آتش دوزخ میں یہ گرمی کہاںسوز غم ہائے نہانی اور ہے
ہے جوانی خود جوانی کا سنگارسادگی گہنہ ہے اس سن کے لیے
میں گھٹتا جا رہا ہوں اپنے اندرتمہیں اتنا زیادہ کر لیا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books