aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "gunaah-e-aadam"
بارش شراب عرش ہے یہ سوچ کر عدمؔبارش کے سب حروف کو الٹا کے پی گیا
پھر آج عدمؔ شام سے غمگیں ہے طبیعتپھر آج سر شام میں کچھ سوچ رہا ہوں
لذت غم تو بخش دی اس نےحوصلے بھی عدمؔ دیے ہوتے
عدمؔ روز اجل جب قسمتیں تقسیم ہوتی تھیںمقدر کی جگہ میں ساغر و مینا اٹھا لایا
بہت کترا رہے ہو مغبچوں سےگناہ ترک بادہ کر لیا کیا
بے گنہ کہتا پھرے ہے آپ کوشیخ نسل حضرت آدم نہیں
جانب راہ عدم جو بھی سدھارے جائیںعین ممکن ہے کسی روز پکارے جائیں
خوب تعزیر گناہ عشق ہےنقد جاں لینا یہاں جرمانہ ہے
بیان لغزش آدم نہ کر کہ وہ فتنہمری زمیں سے نہیں تیرے آسماں سے اٹھا
مٹا سکتی نہیں نفرت کو نفرت کی روش ہرگزبقائے نسل آدم کے لئے الفت ضروری ہے
تم آؤ مرگ شادی ہے نہ آؤ مرگ ناکامینظر میں اب رہ ملک عدم یوں بھی ہے اور یوں بھی
اے عدم کے مسافرو ہشیارراہ میں زندگی کھڑی ہوگی
جلا چراغ عدم تو عجب اجالا ہواراہ وجود کی منزل دکھائی دینے لگی
جس میں چھپا ہوا ہو وجود گناہ و کفراس معتبر لباس پہ تیزاب ڈال دو
کچھ اس قدر نہیں سفر ہستی و عدمگر پانو اٹھائیے تو یہ عرصہ ہے دو قدم
خون اپنا ہو یا پرایا ہونسل آدم کا خون ہے آخر
خاکساروں میں نہیں ایسی کسی کی توقیرقد آدم مری تعظیم کو سایا اٹھا
جا کر فنا کے اس طرف آسودہ میں ہوامیں عالم عدم میں بھی دیکھا مزہ نہ تھا
روز محفل سے اٹھاتے ہو تو دل دکھتا ہےاب نکلواؤ تو پھر حضرت آدم کی طرح
ہے کس کا انتظار کہ خواب عدم سے بھیہر بار چونک پڑتے ہیں آواز پا کے ساتھ
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books