aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khiich"
کیا اثر تھا جذبۂ خاموش میںخود وہ کھچ کر آ گئے آغوش میں
ترے جمال کی تصویر کھینچ دوں لیکنزباں میں آنکھ نہیں آنکھ میں زبان نہیں
یادوں کی ریل اور کہیں جا رہی تھی پھرزنجیر کھینچ کر ہی اترنا پڑا مجھے
بدن کا سارا لہو کھنچ کے آ گیا رخ پروہ ایک بوسہ ہمیں دے کے سرخ رو ہے بہت
یہ کیا کہ تم نے جفا سے بھی ہاتھ کھینچ لیامری وفاؤں کا کچھ تو صلہ دیا ہوتا
کھینچ لائی ہے محبت ترے در پر مجھ کواتنی آسانی سے ورنہ کسے حاصل ہوا میں
کھینچ لینا وہ مرا پردے کا کونا دفعتاًاور دوپٹے سے ترا وہ منہ چھپانا یاد ہے
کھینچ لائی ہے ترے دشت کی وحشت ورنہکتنے دریا ہی مری پیاس بجھانے آتے
مجھے لگتا ہے دل کھنچ کر چلا آتا ہے ہاتھوں پرتجھے لکھوں تو میری انگلیاں ایسی دھڑکتی ہیں
تم پہ کیا خاک اثر ہوگا مرے شعروں کاتم کو تو میر تقی میرؔ نہیں کھینچ سکا
اداسی کھینچ لائی ہے یہاں تکمیں آنسو تھا سمندر میں پڑا ہوں
نقش قدم ہیں راہ میں فرہاد و قیس کےاے عشق کھینچ کر مجھے لایا ادھر کہاں
پروانے آ ہی جائیں گے کھنچ کر بہ جبر عشقمحفل میں صرف شمع جلانے کی دیر ہے
سورج کو چونچ میں لیے مرغا کھڑا رہاکھڑکی کے پردے کھینچ دئیے رات ہو گئی
لکیر کھینچ کے بیٹھی ہے تشنگی مریبس ایک ضد ہے کہ دریا یہیں پہ آئے گا
دائرہ کھینچ کے بیٹھا ہوں بڑی مدت سےخود سے نکلوں تو کسی اور کا رستہ دیکھوں
رکھتا ہوں اپنا آپ بہت کھینچ تان کرچھوٹا ہوں اور خود کو بڑا کرنے آیا ہوں
تصور میں ترا در اپنے سر تک کھینچ لیتا ہوںستم گر میں نہیں چلتا تری دیوار چلتی ہے
ہر ایک رات کہیں دور بھاگ جاتا ہوںہر ایک صبح کوئی مجھ کو کھینچ لاتا ہے
پھر زمیں کھینچ رہی ہے مجھے اپنی جانبمیں رکوں کیسے کے پرواز ابھی باقی ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books