aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "khilaa.o"
مسکراؤ بہار کے دن ہیںگل کھلاؤ بہار کے دن ہیں
ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلافگر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی
روز تاروں کو نمائش میں خلل پڑتا ہےچاند پاگل ہے اندھیرے میں نکل پڑتا ہے
ہیں دلیلیں ترے خلاف مگرسوچتا ہوں تری حمایت میں
اسے کیوں ہم نے دیا دل جو ہے بے مہری میں کامل جسے عادت ہے جفا کیجسے چڑھ مہر و وفا کی جسے آتا نہیں آنا غم و حسرت کا مٹانا جو ستم میں ہے یگانہجسے کہتا ہے زمانہ بت بے مہر و دغا باز جفا پیشہ فسوں ساز ستم خانہ بر اندازغضب جس کا ہر اک ناز نظر فتنہ مژہ تیر بلا زلف گرہ گیر غم و رنج کا بانی قلق و دردکا موجب ستم و جور کا استاد جفا کاری میں ماہر جو ستم کیش و ستم گر جو ستم پیشہ ہےدلبر جسے آتی نہیں الفت جو سمجھتا نہیں چاہت جو تسلی کو نہ سمجھے جو تشفی کو نہجانے جو کرے قول نہ پورا کرے ہر کام ادھورا یہی دن رات تصور ہے کہ ناحقاسے چاہا جو نہ آئے نہ بلائے نہ کبھی پاس بٹھائے نہ رخ صاف دکھائے نہ کوئیبات سنائے نہ لگی دل کی بجھائے نہ کلی دل کی کھلائے نہ غم و رنج گھٹائے نہ رہ و رسمبڑھائے جو کہو کچھ تو خفا ہو کہے شکوے کی ضرورت جو یہی ہے تو نہ چاہو جو نہچاہو گے تو کیا ہے نہ نباہو گے تو کیا ہے بہت اتراؤ نہ دل دے کے یہ کس کام کا دلہے غم و اندوہ کا مارا ابھی چاہوں تو میں رکھ دوں اسے تلووں سے مسل کر ابھی منہدیکھتے رہ جاؤ کہ ہیں ان کو ہوا کیا کہ انہوں نے مرا دل لے کے مرے ہاتھ سے کھویا
بھری بہار میں اک شاخ پر کھلا ہے گلابکہ جیسے تو نے ہتھیلی پہ گال رکھا ہے
قبول کیسے کروں ان کا فیصلہ کہ یہ لوگمرے خلاف ہی میرا بیان مانگتے ہیں
یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگاابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے
آکاش کی حسین فضاؤں میں کھو گیامیں اس قدر اڑا کہ خلاؤں میں کھو گیا
بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گلکہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا
میں آپ اپنی موت کی تیاریوں میں ہوںمیرے خلاف آپ کی سازش فضول ہے
اتنا تو زندگی میں کسی کے خلل پڑےہنسنے سے ہو سکون نہ رونے سے کل پڑے
اس وہم سے کہ نیند میں آئے نہ کچھ خللاحباب زیر خاک سلا کر چلے گئے
کوئی تو پھول کھلائے دعا کے لہجے میںعجب طرح کی گھٹن ہے ہوا کے لہجے میں
کچھ لوگ تو خلاف ہوں حاسد کوئی تو ہوکیا لطف سیدھی سادی محبت میں آئے گا
تنہا وہ آئیں جائیں یہ ہے شان کے خلافآنا حیا کے ساتھ ہے جانا ادا کے ساتھ
دعا کرو کہ یہ پودا سدا ہرا ہی لگےاداسیوں میں بھی چہرہ کھلا کھلا ہی لگے
غیر کی نظروں سے بچ کر سب کی مرضی کے خلافوہ ترا چوری چھپے راتوں کو آنا یاد ہے
کھلنا کہیں چھپا بھی ہے چاہت کے پھول کالی گھر میں سانس اور گلی تک مہک گئی
اے وطن جب بھی سر دشت کوئی پھول کھلادیکھ کر تیرے شہیدوں کی نشانی رویا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books