aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "mamtaa"
کسی نے رکھ دیے ممتا بھرے دو ہاتھ کیا سر پرمرے اندر کوئی بچہ بلک کر رونے لگتا ہے
بہن کا پیار ماں کی مامتا دو چیختی آنکھیںیہی تحفے تھے وہ جن کو میں اکثر یاد کرتا تھا
مرے چہرے پہ ممتا کی فراوانی چمکتی ہےمیں بوڑھا ہو رہا ہوں پھر بھی پیشانی چمکتی ہے
جڑا ہی رہتا ہے ممتا کی گربھنال سے وہوجود بیٹے کا ماں سے جدا نہیں ہوتا
کیسے اسے پتہ ہو کہ ممتا عظیم ہےہم جیسا کمسنی سے جو بچہ یتیم ہے
آفت تو ہے وہ ناز بھی انداز بھی لیکنمرتا ہوں میں جس پر وہ ادا اور ہی کچھ ہے
میرؔ عمداً بھی کوئی مرتا ہےجان ہے تو جہان ہے پیارے
یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میںخدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے
یہ تو کہئے اس خطا کی کیا سزامیں جو کہہ دوں آپ پر مرتا ہوں میں
سمجھے گا آدمی کو وہاں کون آدمیبندہ جہاں خدا کو خدا مانتا نہیں
اس کے یوں ترک محبت کا سبب ہوگا کوئیجی نہیں یہ مانتا وہ بے وفا پہلے سے تھا
تجھ سے بچھڑوں تو تری ذات کا حصہ ہو جاؤںجس سے مرتا ہوں اسی زہر سے اچھا ہو جاؤں
کون جینے کے لیے مرتا رہےلو، سنبھالو اپنی دنیا ہم چلے
آم تیری یہ خوش نصیبی ہےورنہ لنگڑوں پہ کون مرتا ہے
ابتدا وہ تھی کہ جینے کے لیے مرتا تھا میںانتہا یہ ہے کہ مرنے کی بھی حسرت نہ رہی
متاع لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہےکہ خون دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے
ہر بات جانتے ہوئے دل مانتا نہ تھاہم جانے اعتبار کے کس مرحلے میں تھے
کہا میں نے مرتا ہوں تم پر تو بولےنکلتے نہ دیکھا جنازہ کسی کا
مرتا ہے جو محبوب کی ٹھوکر پہ نظیرؔ آہپھر اس کو کبھی اور کوئی لت نہیں لگتی
کیوں متاع دل کے لٹ جانے کا کوئی غم کرےشہر دلی میں تو ایسے واقعے ہوتے رہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books