aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "miiras"
واعظو ہم رند کیوں کر کابل جنت نہیںکیا گنہ گاروں کو میراث پدر ملتی نہیں
رشتۂ درد کی میراث ملی ہے ہم کوہم ترے نام پہ جینے کی خطا کرتے ہیں
تگ و تاز پیہم ہے میراث آدممرے منتظر کچھ جہاں اور بھی ہیں
دریائے محبت سے محبؔ لے ہی کے چھوڑیمجھ اشک نے آخر در نایاب کی میراث
مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میںتو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ
اتنی ملتی ہے مری غزلوں سے صورت تیریلوگ تجھ کو مرا محبوب سمجھتے ہوں گے
جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھجانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں
پتھر مجھے کہتا ہے مرا چاہنے والامیں موم ہوں اس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا
مجھے خبر تھی مرا انتظار گھر میں رہایہ حادثہ تھا کہ میں عمر بھر سفر میں رہا
پوچھ لیتے وہ بس مزاج مراکتنا آسان تھا علاج مرا
ترے وعدوں پہ کہاں تک مرا دل فریب کھائےکوئی ایسا کر بہانہ مری آس ٹوٹ جائے
آتے آتے مرا نام سا رہ گیااس کے ہونٹوں پہ کچھ کانپتا رہ گیا
کام کی بات میں نے کی ہی نہیںیہ مرا طور زندگی ہی نہیں
اپنے ہونے کا کچھ احساس نہ ہونے سے ہواخود سے ملنا مرا اک شخص کے کھونے سے ہوا
جاتے جاتے آپ اتنا کام تو کیجے مرایاد کا سارا سر و ساماں جلاتے جائیے
مرا ضمیر بہت ہے مجھے سزا کے لیےتو دوست ہے تو نصیحت نہ کر خدا کے لیے
میں نے چاہا ہے تجھے عام سے انساں کی طرحتو مرا خواب نہیں ہے جو بکھر جائے گا
اسے کیوں ہم نے دیا دل جو ہے بے مہری میں کامل جسے عادت ہے جفا کیجسے چڑھ مہر و وفا کی جسے آتا نہیں آنا غم و حسرت کا مٹانا جو ستم میں ہے یگانہجسے کہتا ہے زمانہ بت بے مہر و دغا باز جفا پیشہ فسوں ساز ستم خانہ بر اندازغضب جس کا ہر اک ناز نظر فتنہ مژہ تیر بلا زلف گرہ گیر غم و رنج کا بانی قلق و دردکا موجب ستم و جور کا استاد جفا کاری میں ماہر جو ستم کیش و ستم گر جو ستم پیشہ ہےدلبر جسے آتی نہیں الفت جو سمجھتا نہیں چاہت جو تسلی کو نہ سمجھے جو تشفی کو نہجانے جو کرے قول نہ پورا کرے ہر کام ادھورا یہی دن رات تصور ہے کہ ناحقاسے چاہا جو نہ آئے نہ بلائے نہ کبھی پاس بٹھائے نہ رخ صاف دکھائے نہ کوئیبات سنائے نہ لگی دل کی بجھائے نہ کلی دل کی کھلائے نہ غم و رنج گھٹائے نہ رہ و رسمبڑھائے جو کہو کچھ تو خفا ہو کہے شکوے کی ضرورت جو یہی ہے تو نہ چاہو جو نہچاہو گے تو کیا ہے نہ نباہو گے تو کیا ہے بہت اتراؤ نہ دل دے کے یہ کس کام کا دلہے غم و اندوہ کا مارا ابھی چاہوں تو میں رکھ دوں اسے تلووں سے مسل کر ابھی منہدیکھتے رہ جاؤ کہ ہیں ان کو ہوا کیا کہ انہوں نے مرا دل لے کے مرے ہاتھ سے کھویا
میں لوٹنے کے ارادے سے جا رہا ہوں مگرسفر سفر ہے مرا انتظار مت کرنا
میں آندھیوں کے پاس تلاش صبا میں ہوںتم مجھ سے پوچھتے ہو مرا حوصلہ ہے کیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books