aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "raho"
بارے دنیا میں رہو غم زدہ یا شاد رہوایسا کچھ کر کے چلو یاں کہ بہت یاد رہو
جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفرؔآدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیئے
پیاسو رہو نہ دشت میں بارش کے منتظرمارو زمیں پہ پاؤں کہ پانی نکل پڑے
اسے کیوں ہم نے دیا دل جو ہے بے مہری میں کامل جسے عادت ہے جفا کیجسے چڑھ مہر و وفا کی جسے آتا نہیں آنا غم و حسرت کا مٹانا جو ستم میں ہے یگانہجسے کہتا ہے زمانہ بت بے مہر و دغا باز جفا پیشہ فسوں ساز ستم خانہ بر اندازغضب جس کا ہر اک ناز نظر فتنہ مژہ تیر بلا زلف گرہ گیر غم و رنج کا بانی قلق و دردکا موجب ستم و جور کا استاد جفا کاری میں ماہر جو ستم کیش و ستم گر جو ستم پیشہ ہےدلبر جسے آتی نہیں الفت جو سمجھتا نہیں چاہت جو تسلی کو نہ سمجھے جو تشفی کو نہجانے جو کرے قول نہ پورا کرے ہر کام ادھورا یہی دن رات تصور ہے کہ ناحقاسے چاہا جو نہ آئے نہ بلائے نہ کبھی پاس بٹھائے نہ رخ صاف دکھائے نہ کوئیبات سنائے نہ لگی دل کی بجھائے نہ کلی دل کی کھلائے نہ غم و رنج گھٹائے نہ رہ و رسمبڑھائے جو کہو کچھ تو خفا ہو کہے شکوے کی ضرورت جو یہی ہے تو نہ چاہو جو نہچاہو گے تو کیا ہے نہ نباہو گے تو کیا ہے بہت اتراؤ نہ دل دے کے یہ کس کام کا دلہے غم و اندوہ کا مارا ابھی چاہوں تو میں رکھ دوں اسے تلووں سے مسل کر ابھی منہدیکھتے رہ جاؤ کہ ہیں ان کو ہوا کیا کہ انہوں نے مرا دل لے کے مرے ہاتھ سے کھویا
تم سلامت رہو ہزار برسہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار
تم ہنسو تو دن نکلے چپ رہو تو راتیں ہیںکس کا غم کہاں کا غم سب فضول باتیں ہیں
بڑا مزہ ہو جو محشر میں ہم کریں شکوہوہ منتوں سے کہیں چپ رہو خدا کے لیے
چپ چاپ اپنی آگ میں جلتے رہو فرازؔدنیا تو عرض حال سے بے آبرو کرے
دلوں میں حب وطن ہے اگر تو ایک رہونکھارنا یہ چمن ہے اگر تو ایک رہو
میرؔ ہم مل کے بہت خوش ہوئے تم سے پیارےاس خرابے میں مری جان تم آباد رہو
چپ رہو تو پوچھتا ہے خیر ہےلو خموشی بھی شکایت ہو گئی
تم سلامت رہو قیامت تکاور قیامت کبھی نہ آئے شادؔ
ماں نے لکھا ہے خط میں جہاں جاؤ خوش رہومجھ کو بھلے نہ یاد کرو گھر نہ بھولنا
دو گھڑی اس سے رہو دور تو یوں لگتا ہےجس طرح سایۂ دیوار سے دیوار جدا
باقیؔ جو چپ رہوگے تو اٹھیں گی انگلیاںہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو
ملنا نہ ملنا یہ تو مقدر کی بات ہےتم خوش رہو رہو مرے پیارے جہاں کہیں
ہر صدا پر لگے ہیں کان یہاںدل سنبھالے رہو زباں کی طرح
ظلمتوں میں روشنی کی جستجو کرتے رہوزندگی بھر زندگی کی جستجو کرتے رہو
کچھ نہ کچھ بولتے رہو ہم سےچپ رہو گے تو لوگ سن لیں گے
اگر تقدیر سیدھی ہے تو خود ہو جاؤ گے سیدھےخفا بیٹھے رہو تم کو منانے کون آتا ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books