aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "rasm"
عید کا دن ہے گلے آج تو مل لے ظالمرسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے
اسے کیوں ہم نے دیا دل جو ہے بے مہری میں کامل جسے عادت ہے جفا کیجسے چڑھ مہر و وفا کی جسے آتا نہیں آنا غم و حسرت کا مٹانا جو ستم میں ہے یگانہجسے کہتا ہے زمانہ بت بے مہر و دغا باز جفا پیشہ فسوں ساز ستم خانہ بر اندازغضب جس کا ہر اک ناز نظر فتنہ مژہ تیر بلا زلف گرہ گیر غم و رنج کا بانی قلق و دردکا موجب ستم و جور کا استاد جفا کاری میں ماہر جو ستم کیش و ستم گر جو ستم پیشہ ہےدلبر جسے آتی نہیں الفت جو سمجھتا نہیں چاہت جو تسلی کو نہ سمجھے جو تشفی کو نہجانے جو کرے قول نہ پورا کرے ہر کام ادھورا یہی دن رات تصور ہے کہ ناحقاسے چاہا جو نہ آئے نہ بلائے نہ کبھی پاس بٹھائے نہ رخ صاف دکھائے نہ کوئیبات سنائے نہ لگی دل کی بجھائے نہ کلی دل کی کھلائے نہ غم و رنج گھٹائے نہ رہ و رسمبڑھائے جو کہو کچھ تو خفا ہو کہے شکوے کی ضرورت جو یہی ہے تو نہ چاہو جو نہچاہو گے تو کیا ہے نہ نباہو گے تو کیا ہے بہت اتراؤ نہ دل دے کے یہ کس کام کا دلہے غم و اندوہ کا مارا ابھی چاہوں تو میں رکھ دوں اسے تلووں سے مسل کر ابھی منہدیکھتے رہ جاؤ کہ ہیں ان کو ہوا کیا کہ انہوں نے مرا دل لے کے مرے ہاتھ سے کھویا
خموشی سے ادا ہو رسم دوریکوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم
یہ تو اک رسم جہاں ہے جو ادا ہوتی ہےورنہ سورج کی کہاں سالگرہ ہوتی ہے
جب لگیں زخم تو قاتل کو دعا دی جائےہے یہی رسم تو یہ رسم اٹھا دی جائے
میں اس کو دیکھ کے چپ تھا اسی کی شادی میںمزا تو سارا اسی رسم کے نباہ میں تھا
باقیؔ جو چپ رہوگے تو اٹھیں گی انگلیاںہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو
بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیںعجیب رسم چلی ہے دعا نہ مانگے کوئی
شیخ صاحب سے رسم و راہ نہ کیشکر ہے زندگی تباہ نہ کی
ریت بھی اپنی رت بھی اپنیدل رسم دنیا کیا جانے
تم جانو تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہومجھ کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہو
حسن کافر تھا ادا قاتل تھی باتیں سحر تھیںاور تو سب کچھ تھا لیکن رسم دل داری نہ تھی
نیا بسمل ہوں میں واقف نہیں رسم شہادت سےبتا دے تو ہی اے ظالم تڑپنے کی ادا کیا ہے
پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تورسم و رہ دنیا ہی نبھانے کے لیے آ
زندگی ہم سے ترے ناز اٹھائے نہ گئےسانس لینے کی فقط رسم ادا کرتے تھے
چمن زار محبت میں خموشی موت ہے بلبلیہاں کی زندگی پابندئ رسم فغاں تک ہے
رسم تعظیم نہ رسوا ہو جائےاتنا مت جھکئے کہ سجدہ ہو جائے
تعلق کی نئی اک رسم اب ایجاد کرنا ہےنہ اس کو بھولنا ہے اور نہ اس کو یاد کرنا ہے
اب تو آ جاؤ رسم دنیا کیمیں نے دیوار بھی گرا دی ہے
جینے بھی نہیں دیتے مرنے بھی نہیں دیتےکیا تم نے محبت کی ہر رسم اٹھا ڈالی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books