aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "shimar"
پہلے اس میں اک ادا تھی ناز تھا انداز تھاروٹھنا اب تو تری عادت میں شامل ہو گیا
ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہیجذبات میں وہ پہلی سی شدت نہیں رہی
میں تو اس واسطے چپ ہوں کہ تماشا نہ بنےتو سمجھتا ہے مجھے تجھ سے گلا کچھ بھی نہیں
کہاں تو طے تھا چراغاں ہر ایک گھر کے لیےکہاں چراغ میسر نہیں شہر کے لیے
دھواں جو کچھ گھروں سے اٹھ رہا ہےنہ پورے شہر پر چھائے تو کہنا
بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتےتم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے
اے جنوں پھر مرے سر پر وہی شامت آئیپھر پھنسا زلفوں میں دل پھر وہی آفت آئی
شدید دھوپ میں سارے درخت سوکھ گئےبس اک دعا کا شجر تھا جو بے ثمر نہ ہوا
آتا ہے داغ حسرت دل کا شمار یادمجھ سے مرے گنہ کا حساب اے خدا نہ مانگ
اچھا تمہارے شہر کا دستور ہو گیاجس کو گلے لگا لیا وہ دور ہو گیا
شکن نہ ڈال جبیں پر شراب دیتے ہوئےیہ مسکراتی ہوئی چیز مسکرا کے پلا
کچھ درد کی شدت ہے کچھ پاس محبت ہےہم آہ تو کرتے ہیں فریاد نہیں کرتے
یہ اک شجر کہ جس پہ نہ کانٹا نہ پھول ہےسائے میں اس کے بیٹھ کے رونا فضول ہے
سوچو تو سلوٹوں سے بھری ہے تمام روحدیکھو تو اک شکن بھی نہیں ہے لباس میں
بچھڑ کے تجھ سے نہ دیکھا گیا کسی کا ملاپاڑا دیئے ہیں پرندے شجر پہ بیٹھے ہوئے
ہر طرف ہر جگہ بے شمار آدمیپھر بھی تنہائیوں کا شکار آدمی
اپنے کسی عمل پہ ندامت نہیں مجھےتھا نیک دل بہت جو گنہ گار مجھ میں تھا
کس درجہ دل شکن تھے محبت کے حادثےہم زندگی میں پھر کوئی ارماں نہ کر سکے
شدت تشنگی میں بھی غیرت مے کشی رہیاس نے جو پھیر لی نظر میں نے بھی جام رکھ دیا
کل رات جو ایندھن کے لیے کٹ کے گرا ہےچڑیوں کو بہت پیار تھا اس بوڑھے شجر سے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books