کعبے کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہے

داغؔ دہلوی

کعبے کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہے

داغؔ دہلوی

MORE BY داغؔ دہلوی

    کعبے کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہے

    مجھ کو خبر نہیں مری مٹی کہاں کی ہے

    سن کے مرا فسانہ انہیں لطف آ گیا

    سنتا ہوں اب کہ روز طلب قصہ خواں کی ہے

    پیغام بر کی بات پر آپس میں رنج کیا

    میری زبان کی ہے نہ تمہاری زباں کی ہے

    کچھ تازگی ہو لذت آزار کے لیے

    ہر دم مجھے تلاش نئے آسماں کی ہے

    جاں بر بھی ہو گئے ہیں بہت مجھ سے نیم جاں

    کیا غم ہے اے طبیب جو پوری وہاں کی ہے

    حسرت برس رہی ہے ہمارے مزار پر

    کہتے ہیں سب یہ قبر کسی نوجواں کی ہے

    وقت خرام ناز دکھا دو جدا جدا

    یہ چال حشر کی یہ روش آسماں کی ہے

    فرصت کہاں کہ ہم سے کسی وقت تو ملے

    دن غیر کا ہے رات ترے پاسباں کی ہے

    قاصد کی گفتگو سے تسلی ہو کس طرح

    چھپتی نہیں وہ بات جو تیری زباں کی ہے

    جور رقیب و ظلم فلک کا نہیں خیال

    تشویش ایک خاطر نامہرباں کی ہے

    سن کر مرا فسانۂ غم اس نے یہ کہا

    ہو جائے جھوٹ سچ یہی خوبی بیاں کی ہے

    دامن سنبھال باندھ کمر آستیں چڑھا

    خنجر نکال دل میں اگر امتحاں کی ہے

    ہر ہر نفس میں دل سے نکلنے لگا غبار

    کیا جانے گرد راہ یہ کس کارواں کی ہے

    کیونکہ نہ آتے خلد سے آدم زمین پر

    موزوں وہیں وہ خوب ہے جو سنتے جہاں کی ہے

    تقدیر سے یہ پوچھ رہا ہوں کہ عشق میں

    تدبیر کوئی بھی ستم ناگہاں کی ہے

    اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ

    ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    شمونا رائے بسواس

    شمونا رائے بسواس

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites