Meeraji's Photo'

میراجی

1912 - 1949 | ممبئی, انڈیا

جدید اردو نظم کے بنیاد سازوں میں شامل ، کہتے ہیں انہوں نے اپنی خیالی محبوبہ میراسین کے نام پر اپنا نام ’میراجی‘ کر لیا تھا

جدید اردو نظم کے بنیاد سازوں میں شامل ، کہتے ہیں انہوں نے اپنی خیالی محبوبہ میراسین کے نام پر اپنا نام ’میراجی‘ کر لیا تھا

میراجی

غزل 10

نظم 35

اشعار 3

نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بھول گیا

کیا ہے تیرا کیا ہے میرا اپنا پرایا بھول گیا

غم کے بھروسے کیا کچھ چھوڑا کیا اب تم سے بیان کریں

غم بھی راس آیا دل کو اور ہی کچھ سامان کریں

میرؔ ملے تھے میراجیؔ سے باتوں سے ہم جان گئے

فیض کا چشمہ جاری ہے حفظ ان کا بھی دیوان کریں

 

اقوال 5

ہر کھیل کی دلچسپی وہیں تک ہے جب تک دل یہ سمجھے کہ یہ کھیل سب سے پہلے ہمیں کھیل رہے ہیں۔

  • شیئر کیجیے

جب دنیا پریمی اور پیتم کو ملنے نہیں دیتی تو دل کا ساز تڑپ اٹھتا ہے اور قدرت گیت بناتی ہے۔

  • شیئر کیجیے

آئے دن دنیا اور زندگی کے جھمیلے ہمیں اپنے میں ایسا الجھاتے ہیں کہ ہمارے دلوں پر ایک تھکن بری طرح قابو پا لیتی ہے۔ ہمیں کوئی بات بھلی نہیں معلوم ہوتی۔ ہم اپنے کٹھن حالات سے پنپنے کے قابل نہیں رہتے۔ ایسے میں گیت ہی ہیں کہ ہمیں ان بندھنوں سے چھڑاتے ہیں اور تازہ دم کرکے پھر سے دنیا اور زندگی کے جھمیلوں کے مقابل انہیں جیت لینے کو لا کھڑا کرتے ہیں۔

  • شیئر کیجیے

سب سے پہلے آواز بنی، آواز کے اتار چڑھاؤ سے سر بنے، سروں کے سنجوگ سے بول نے جنم لیا اور پھر راگ کی ڈوری میں بندھ کر بول گیت بن گیے۔

  • شیئر کیجیے

گیت ہی تو ہماری زندگی کا رس ہیں۔ جیسے دھرتی پر ساون آتا ہے ہماری زندگی پر بھی چار دن کے لیے بسنت رت کی بہار چھا جاتی ہے، کوئی من موہنی صورت من کو بھا جاتی ہے۔ جب دنیا پریمی اور پیتم کو ملنے نہیں دیتی تو دل کا ساز تڑپ اٹھتا ہے اور قدرت گیت بناتی ہے۔

  • شیئر کیجیے

کتاب 23

آڈیو 4

جاتری

سمندر کا بلاوا

لب_جوئے_بارے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ بلاگ

 

متعلقہ شعرا

"ممبئی" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے