Meeraji's Photo'

میراجی

1912 - 1949 | ممبئی, ہندوستان

جدید اردو نظم کے بنیاد سازوں میں شامل ، کہتے ہیں انہوں نے اپنی خیالی محبوبہ میراسین کے نام پر اپنا نام ’میراجی‘ کر لیا تھا

جدید اردو نظم کے بنیاد سازوں میں شامل ، کہتے ہیں انہوں نے اپنی خیالی محبوبہ میراسین کے نام پر اپنا نام ’میراجی‘ کر لیا تھا

غزل 10

اشعار 3

نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بھول گیا

کیا ہے تیرا کیا ہے میرا اپنا پرایا بھول گیا

غم کے بھروسے کیا کچھ چھوڑا کیا اب تم سے بیان کریں

غم بھی راس آیا دل کو اور ہی کچھ سامان کریں

میرؔ ملے تھے میراجیؔ سے باتوں سے ہم جان گئے

فیض کا چشمہ جاری ہے حفظ ان کا بھی دیوان کریں

 

اقوال 5

جب دنیا پریمی اور پیتم کو ملنے نہیں دیتی تو دل کا ساز تڑپ اٹھتا ہے اور قدرت گیت بناتی ہے۔

  • شیئر کیجیے

آئے دن دنیا اور زندگی کے جھمیلے ہمیں اپنے میں ایسا الجھاتے ہیں کہ ہمارے دلوں پر ایک تھکن بری طرح قابو پا لیتی ہے۔ ہمیں کوئی بات بھلی نہیں معلوم ہوتی۔ ہم اپنے کٹھن حالات سے پنپنے کے قابل نہیں رہتے۔ ایسے میں گیت ہی ہیں کہ ہمیں ان بندھنوں سے چھڑاتے ہیں اور تازہ دم کرکے پھر سے دنیا اور زندگی کے جھمیلوں کے مقابل انہیں جیت لینے کو لا کھڑا کرتے ہیں۔

  • شیئر کیجیے

سب سے پہلے آواز بنی، آواز کے اتار چڑھاؤ سے سر بنے، سروں کے سنجوگ سے بول نے جنم لیا اور پھر راگ کی ڈوری میں بندھ کر بول گیت بن گیے۔

  • شیئر کیجیے

گیت ہی تو ہماری زندگی کا رس ہیں۔ جیسے دھرتی پر ساون آتا ہے ہماری زندگی پر بھی چار دن کے لیے بسنت رت کی بہار چھا جاتی ہے، کوئی من موہنی صورت من کو بھا جاتی ہے۔ جب دنیا پریمی اور پیتم کو ملنے نہیں دیتی تو دل کا ساز تڑپ اٹھتا ہے اور قدرت گیت بناتی ہے۔

  • شیئر کیجیے

ہر کھیل کی دلچسپی وہیں تک ہے جب تک دل یہ سمجھے کہ یہ کھیل سب سے پہلے ہمیں کھیل رہے ہیں۔

  • شیئر کیجیے

کتاب 20

گیت ہی گیت

 

1944

گیت مالا

 

1939

اس نظم میں

 

2002

جدید نظم: حالی سے میرا جی تک

 

2008

کلیات میرا جی

 

1988

مشرق و مغرب کے نغمے

 

1999

مشرق و مغرب کے نغمے

 

1958

میرا : شخصیت اور فن

 

2012

میرا جی اور ان کا نگار خانہ

 

2013

میرا جی ایک مطالعہ

 

1991

ویڈیو 6

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
دیگر

ضیا محی الدین

جنگ کا انجام

بہو کہے یہ بڑھیا میری جان کی لاگو بن کے رہے_گی ضیا محی الدین

سمندر کا بلاوا

یہ سرگوشیاں کہہ رہی ہیں اب آؤ کہ برسوں سے تم کو بلاتے بلاتے مرے ضیا محی الدین

سمندر کا بلاوا

یہ سرگوشیاں کہہ رہی ہیں اب آؤ کہ برسوں سے تم کو بلاتے بلاتے مرے شمس الرحمن فاروقی

عدم کا خلا

ہوا کے جھونکے ادھر جو آئیں تو ان سے کہنا ضیا محی الدین

محرومی

میں کہتا ہوں تم سے اگر شام کو بھول کر بھی کسی نے کبھی کوئی دھندلا ستارہ نہ دیکھا ضیا محی الدین

آڈیو 4

جاتری

سمندر کا بلاوا

لب_جوئے_بارے

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ بلاگ

 

مزید دیکھیے

متعلقہ شعرا

  • یوسف ظفر یوسف ظفر ہم عصر
  • اختر الایمان اختر الایمان ہم عصر
  • سعادت حسن منٹو سعادت حسن منٹو ہم عصر
  • اسرار الحق مجاز اسرار الحق مجاز ہم عصر
  • مخدومؔ محی الدین مخدومؔ محی الدین ہم عصر
  • مجید امجد مجید امجد ہم عصر
  • ن م راشد ن م راشد ہم عصر

"ممبئی" کے مزید شعرا

  • شکیل بدایونی شکیل بدایونی
  • ندا فاضلی ندا فاضلی
  • اختر الایمان اختر الایمان
  • ساحر لدھیانوی ساحر لدھیانوی
  • گلزار گلزار
  • جاوید اختر جاوید اختر
  • ذاکر خان ذاکر ذاکر خان ذاکر
  • نوین جوشی نوین جوشی
  • راجیش ریڈی راجیش ریڈی
  • جاں نثاراختر جاں نثاراختر