شیخ ابراہیم ذوقؔ
غزل 61
اشعار 75
تم بھول کر بھی یاد نہیں کرتے ہو کبھی
ہم تو تمہاری یاد میں سب کچھ بھلا چکے
آپ تو سہواً یا غلطی سے بھی کبھی مجھے یاد نہیں کرتے۔
اور ایک ہم ہیں کہ آپ کی یاد میں دنیا کی ہر چیز فراموش کر چکے ہیں۔
اس شعر میں شاعر محبوب کی بے اعتنائی اور اپنی وارفتگی کا موازنہ کر رہا ہے۔ وہ شکوہ کناں ہے کہ محبوب اسے بھولے سے بھی یاد نہیں کرتا، جبکہ عاشق محبوب کے تصور میں اتنا محو ہے کہ اسے دنیا و مافیہا کی کوئی خبر نہیں رہی۔ یہ کمالِ عشق اور خود فراموشی کی انتہا ہے۔
-
شیئر کیجیے
- تشریح
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
دنیا کے غموں سے گھبرا کر اور تنگ آ کر اب ہم یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے۔
لیکن اگر مرنے کے بعد بھی ہمیں سکون نہ ملا تو پھر ہمارے پاس جانے کے لیے کون سی جگہ ہوگی؟
شاعر زندگی کی مشکلات سے گھبرا کر موت کو نجات کا واحد راستہ سمجھتا ہے، مگر فوراً ہی ایک اور خوف دامن گیر ہو جاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اگر موت کے بعد بھی دل کی بے چینی اور درد ختم نہ ہوا تو پھر پناہ کہاں ملے گی۔ یہ شعر مایوسی کی اس انتہا کو ظاہر کرتا ہے جہاں انسان کے لیے کائنات میں کوئی ٹھکانہ باقی نہیں رہتا۔
-
شیئر کیجیے
- تشریح
- غزل دیکھیے
مرض عشق جسے ہو اسے کیا یاد رہے
نہ دوا یاد رہے اور نہ دعا یاد رہے
جسے عشق کا روگ لگ جائے، اسے دنیا کی کوئی اور بات یاد نہیں رہتی۔
اسے اپنی شفا کے لیے نہ تو دوا کا خیال رہتا ہے اور نہ ہی وہ دعا مانگنا یاد رکھتا ہے۔
اس شعر میں ذوقؔ محبت کی وارفتگی اور محویت کو بیان کرتے ہیں کہ عشق انسان کو ہر تدبیر سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ عاشق اپنے محبوب کی یاد میں اس قدر کھو جاتا ہے کہ اسے اپنی بیماری کے علاج کے لیے نہ ظاہری اسباب (دوا) کا ہوش رہتا ہے اور نہ ہی وہ روحانی سہارے (دعا) کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔
-
شیئر کیجیے
- تشریح
- غزل دیکھیے
زاہد شراب پینے سے کافر ہوا میں کیوں
کیا ڈیڑھ چلو پانی میں ایمان بہہ گیا
اے زاہد! صرف شراب پی لینے سے میں اسلام سے خارج (کافر) کیسے ہو گیا؟
کیا میرا ایمان اتنا بودا تھا کہ وہ ذرا سے پانی (شراب) کے ساتھ بہہ گیا؟
اس شعر میں ذوقؔ زاہد کی تنگ نظری پر گہرا طنز کرتے ہیں۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ایمان دل کے یقین کا نام ہے، یہ کوئی ایسی سطحی چیز نہیں جو شراب کے چند گھونٹوں سے ضائع ہو جائے۔ شاعر کے نزدیک ظاہری گناہ سے انسان کا بنیادی عقیدہ ختم نہیں ہو جاتا۔
-
شیئر کیجیے
- تشریح
- غزل دیکھیے
اے ذوقؔ تکلف میں ہے تکلیف سراسر
آرام میں ہے وہ جو تکلف نہیں کرتا
اے ذوقؔ! رسمی رکھ رکھاؤ اور بناوٹ میں مکمل طور پر زحمت اور پریشانی ہے۔
سکون اور چین صرف اسی کو نصیب ہے جو دکھاوے اور تکلف سے پرہیز کرتا ہے۔
اس شعر میں شاعر سادگی کی فضیلت بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تکلفات انسان کی زندگی کو مشکل بنا دیتے ہیں اور یہ سراسر تکلیف کا باعث ہیں۔ حقیقی خوشی اور قلبی اطمینان اس شخص کے حصے میں آتا ہے جو مصنوعی آداب سے دور رہ کر سادہ اور فطری زندگی گزارتا ہے۔
-
شیئر کیجیے
- تشریح
- غزل دیکھیے
قطعہ 4
کتاب 72
تصویری شاعری 16
تو بھلا ہے تو برا ہو نہیں سکتا اے ذوقؔ ہے برا وہ ہی کہ جو تجھ کو برا جانتا ہے اور اگر تو ہی برا ہے تو وہ سچ کہتا ہے کیوں برا کہنے سے تو اس کے برا مانتا ہے