Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Shaikh Ibrahim Zauq's Photo'

شیخ ابراہیم ذوقؔ

1790 - 1854 | دلی, انڈیا

آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے استاد اور ملک الشعرا۔ غالب کے ساتھ ان کی رقابت مشہور ہے

آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے استاد اور ملک الشعرا۔ غالب کے ساتھ ان کی رقابت مشہور ہے

شیخ ابراہیم ذوقؔ

غزل 61

اشعار 75

تم بھول کر بھی یاد نہیں کرتے ہو کبھی

ہم تو تمہاری یاد میں سب کچھ بھلا چکے

آپ تو سہواً یا غلطی سے بھی کبھی مجھے یاد نہیں کرتے۔

اور ایک ہم ہیں کہ آپ کی یاد میں دنیا کی ہر چیز فراموش کر چکے ہیں۔

اس شعر میں شاعر محبوب کی بے اعتنائی اور اپنی وارفتگی کا موازنہ کر رہا ہے۔ وہ شکوہ کناں ہے کہ محبوب اسے بھولے سے بھی یاد نہیں کرتا، جبکہ عاشق محبوب کے تصور میں اتنا محو ہے کہ اسے دنیا و مافیہا کی کوئی خبر نہیں رہی۔ یہ کمالِ عشق اور خود فراموشی کی انتہا ہے۔

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

دنیا کے غموں سے گھبرا کر اور تنگ آ کر اب ہم یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے۔

لیکن اگر مرنے کے بعد بھی ہمیں سکون نہ ملا تو پھر ہمارے پاس جانے کے لیے کون سی جگہ ہوگی؟

شاعر زندگی کی مشکلات سے گھبرا کر موت کو نجات کا واحد راستہ سمجھتا ہے، مگر فوراً ہی ایک اور خوف دامن گیر ہو جاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اگر موت کے بعد بھی دل کی بے چینی اور درد ختم نہ ہوا تو پھر پناہ کہاں ملے گی۔ یہ شعر مایوسی کی اس انتہا کو ظاہر کرتا ہے جہاں انسان کے لیے کائنات میں کوئی ٹھکانہ باقی نہیں رہتا۔

مرض عشق جسے ہو اسے کیا یاد رہے

نہ دوا یاد رہے اور نہ دعا یاد رہے

جسے عشق کا روگ لگ جائے، اسے دنیا کی کوئی اور بات یاد نہیں رہتی۔

اسے اپنی شفا کے لیے نہ تو دوا کا خیال رہتا ہے اور نہ ہی وہ دعا مانگنا یاد رکھتا ہے۔

اس شعر میں ذوقؔ محبت کی وارفتگی اور محویت کو بیان کرتے ہیں کہ عشق انسان کو ہر تدبیر سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ عاشق اپنے محبوب کی یاد میں اس قدر کھو جاتا ہے کہ اسے اپنی بیماری کے علاج کے لیے نہ ظاہری اسباب (دوا) کا ہوش رہتا ہے اور نہ ہی وہ روحانی سہارے (دعا) کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔

زاہد شراب پینے سے کافر ہوا میں کیوں

کیا ڈیڑھ چلو پانی میں ایمان بہہ گیا

اے زاہد! صرف شراب پی لینے سے میں اسلام سے خارج (کافر) کیسے ہو گیا؟

کیا میرا ایمان اتنا بودا تھا کہ وہ ذرا سے پانی (شراب) کے ساتھ بہہ گیا؟

اس شعر میں ذوقؔ زاہد کی تنگ نظری پر گہرا طنز کرتے ہیں۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ایمان دل کے یقین کا نام ہے، یہ کوئی ایسی سطحی چیز نہیں جو شراب کے چند گھونٹوں سے ضائع ہو جائے۔ شاعر کے نزدیک ظاہری گناہ سے انسان کا بنیادی عقیدہ ختم نہیں ہو جاتا۔

اے ذوقؔ تکلف میں ہے تکلیف سراسر

آرام میں ہے وہ جو تکلف نہیں کرتا

اے ذوقؔ! رسمی رکھ رکھاؤ اور بناوٹ میں مکمل طور پر زحمت اور پریشانی ہے۔

سکون اور چین صرف اسی کو نصیب ہے جو دکھاوے اور تکلف سے پرہیز کرتا ہے۔

اس شعر میں شاعر سادگی کی فضیلت بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تکلفات انسان کی زندگی کو مشکل بنا دیتے ہیں اور یہ سراسر تکلیف کا باعث ہیں۔ حقیقی خوشی اور قلبی اطمینان اس شخص کے حصے میں آتا ہے جو مصنوعی آداب سے دور رہ کر سادہ اور فطری زندگی گزارتا ہے۔

قطعہ 4

 

کتاب 72

تصویری شاعری 16

ویڈیو 16

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
دیگر

مہدی حسن

Gair Sah bakht hi hona tha naseebon me mere

کندن لال سہگل

Gar siyaah-bakht hi hona tha naseebon mein mere

کندن لال سہگل

Is tapish ka hai mazaa dil hi ko haasil

نامعلوم

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں_گے

نامعلوم

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں_گے

سدیپ بنرجی

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں_گے

شیخ ابراہیم ذوقؔ

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں_گے

ٹینا ثانی

خوب روکا شکایتوں سے مجھے

مہران امروہی

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے

ششر پارکھی

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے

اقبال بانو

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے

بیگم اختر

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے

شیخ ابراہیم ذوقؔ

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے

ہری ہرن

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے

اقبال بانو

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے

مہران امروہی

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے

شیخ ابراہیم ذوقؔ

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے

کندن لال سہگل

آڈیو 14

آتے ہی تو نے گھر کے پھر جانے کی سنائی

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں_گے

اک صدمہ درد_دل سے مری جان پر تو ہے

Recitation

متعلقہ بلاگ

 

متعلقہ شعرا

"دلی" کے مزید شعرا

Recitation

بولیے