کوثر مظہری کے مضامین
قرات اور مکالمہ
پڑھنے کے عمل کو عربی میں قرأت کہتے ہیں۔ اب تک میں صرف قرآن پڑھنے کو قرأت سمجھتا تھا لیکن جب اردو تنقید میں انگریزی نظریۂ نقد نے اپنا پنجہ گاڑا تو متون کے مطالعے یا پڑھنے کے لیے ’قرأت‘ لفظ استعمال ہونے لگا۔ جب Reader-Oriented Criticism یا Reader-Response
’’نئی دنیا کو سلام‘‘ میں احتجاج کی لَے
ترقی پسند تحریک استحصال اور جبر کے خلاف احتجاج کی آواز تھی۔ اس تحریک سے وابستہ شاعروں نے اپنی تخلیقی قوتوں کو بروئے کا ر لا کر شعروادب کے افق پر نئے چاند اگائے۔ اس کے سامنے شعرو ادب کا سماجی منصب واضح تھا۔ اجتماعیت کو انفرادیت پر فوقیت دینا اس تحر
غالب کا المیہ کردار خطوط میں
مرزا غالب گرچہ غیرمحتاط زندگی گزارتے ہیں مگر آس پاس سے پوری طرح باخبر رہتے ہیں۔ مغربی تہذیب کے زوال پر ماتم بھی کرتے ہیں۔ ان کے اندر ایک طرح کا طنطنہ ہے اور خودداری کا مادہ بھی۔ انسانی رشتوں کا انہیں بے حد پاس ہے۔ جب بھی کوئی واقعہ یا سانحہ ان کی افتاد
مرزا غالب اور ہند مغل جمالیات : ڈاکٹر شکیل الرحمن
مرزا غالب کی شخصیت نے ان کی شاعری کو چار چاند لگانے میں مدد کی۔ ان کا رکھ رکھائو، ان کی گفتگو، احباب کی محفلوں میں شرکت، طرز زندگی اور سیاسی اور سماجی معاملات و حالات پر ان کاردعمل اور ان جیسے دوسرے کچھ ایسے عوامل تھے جن کے سبب مرزا کی شخصیت اور شاعری
اخترالایمان کا خرابہ
انسانی زندگی کی تمام تر جہتوں کو نظر میں رکھنا، انگیز کرنا اور پھر تخلیقیت سے ہم آمیز کرکے صفحۂ قرطاس پر اتارنا ایک مشکل کام ہے۔ اخترالایمان نے یہ کام پوری تخلیقی ہنرمندی کے ساتھ کیا ہے۔ انھوں نے اپنے مجموعۂ کلام ’سروساماں‘ (1983) کے پیش لفظ میں لکھا
عمیق حنفی کی طویل نظمیہ شاعری
اردو میں طویل نظم نگاری کی تاریخ بہت پرانی نہیں ہے۔ اس کا رشتہ بھی محمد حسین آزاد کی نظمیہ شاعری کی تحریک سے جوڑا اور مانا جاسکتا ہے، جب خود محمد حسین آزاد نے انجمن پنجاب کی ادبی نشستوں میں ۱۱۵ اشعار پر مشتمل اپنی نظم ’شب قدر‘ اور ۱۴۴ اشعار پر مشتمل
بکٹ کہانی: لسانی و تہذیبی نقوش
یہاں افضل کی بکٹ کہانی کی دریافت اور اس کے نسخوں کی تعداد یا ان کے مستند یا غیرمستند ہونے کا قصہ پیش نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی افضل کی پیدائش اور زندگی کے بارے میں تحقیقی اقوال زرّیں آپ کے گوش گزار کیے جائیں گے۔ یہ کام ہمارے اکابرینِ ادب نے کردکھایا
ادب، تہذیب اور سماج
کوئی بھی ادب سماج سے الگ ہوکر تخلیق نہیں ہوتا۔ ادب اور معاشرے میں ایک گہرا رشتہ ہوتا ہے De Bonald. نے اٹھارہویں صدی میں کہا تھا: Literature is the expression of society اس کی روشنی میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ادب سے معاشرے اور ثقافت کو ایک سمت و رفتار
فہمیدہ ریاض: انحراف کی آواز
اردو شعر و ادب کی تاریخ میں بہت کم ایسی خواتین پیدا ہوئی ہیں جنھوں نے اپنے لہجوں کی چھاپ چھوڑی اور اپنے توانا افکار سے معاشرے کو چونکایا۔ یوں بھی پہلے اردو شعر و ادب میں خواتین ڈری سہمی ہی داخل ہوا کرتی تھیں۔ آج کل صورتِ حال ویسی نہیں جیسی پچاس برس
فیض: گل رنگ تِمثال کا شاعر
فیضؔ کی شاعری جذبات اور احساسات کو پیکر عطا کرتی ہے۔ نظموں اور غزلوں میں فیض کے یہاں فکر و فلسفے کی رنگ آمیزی سے زیادہ احساس اور جذبے کے لطیف پیکر نظر آتے ہیں۔ انھوں نے روایت کو نیا پیرہن عطا کیا یا یوں کہیں کہ روایت کے پیرہن میں معاشرے کی کشمکش، انسانی