- کتاب فہرست 182702
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
ڈرامہ927 تعلیم346 مضامين و خاكه1394 قصہ / داستان1609 صحت105 تاریخ3320طنز و مزاح611 صحافت203 زبان و ادب1724 خطوط750
طرز زندگی30 طب986 تحریکات273 ناول4338 سیاسی357 مذہبیات4814 تحقیق و تنقید6644افسانہ2690 خاکے/ قلمی چہرے244 سماجی مسائل110 تصوف2050نصابی کتاب452 ترجمہ4275خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1291
- دوہا50
- رزمیہ103
- شرح181
- گیت63
- غزل1268
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1606
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4894
- مرثیہ387
- مثنوی752
- مسدس44
- نعت592
- نظم1220
- دیگر85
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
اے۔ حمید کے افسانے
اور پل ٹوٹ گیا
یہ محبت کی ایک عجیب کہانی ہے۔ دو دوست اتفاق سے ایک ہی لڑکی سے محبت کرتے ہیں لیکن اس سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ لڑکی دونوں دوستوں سے یکساں محبت کرتی ہے۔ ایک دوست جب پانچ سال کے لئے بیرون ملک چلا جاتا ہے تو اس لڑکی کی شادی دوسرے دوست سے ہو جاتی ہے لیکن شادی کے کچھ دن بعد ہی لڑکی مر جاتی ہے اور مرتے وقت اپنے شوہر سے وعدہ لیتی ہے کہ وہ اس کی موت کی اطلاع اپنے دوست کو نہیں دے گا۔
ایک رات
بے یار و مددگار سرد ٹھنڈی رات میں سر چھپانے کے لیے جگہ تلاش کرتے ایک ایسے شخص کی کہانی، جسے مسجد سے نکالے جانے پر راستے میں ایک دوسرا شخص مل جاتا ہے۔ اس سے مل کر وہ سوچتا ہے کہ اس کے مسئلے کا حل ہو گیا مگر بعد میں پتہ چلتا ہے کہ وہ بھی اسی کی طرح پناہ کی تلاش میں بھٹک رہا ہے۔ وہ اسے ساتھ لیکر ایک چائے خانے میں چلا جاتا ہے اور وہاں اپنی کہانی سناتا ہے۔ اس کی کہانی سے وہ اتنا متاثر ہوتا ہے کہ اپنے حالات بدلنے کے لیے بھوکا اور تنہا ہی بےرحم دنیا سے ٹکرانے کے لیے نکل پڑتا ہے۔
منزل منزل
یہ افسانہ ادھوری محبت، تقدیر کے فیصلوں اور یادوں کے دوام کی ایک سحر انگیز رومانوی داستان ہے۔ کہانی کا تانا بانا راوی اور 'راجدہ' نامی لڑکی کے گرد گھومتا ہے، جن کے درمیان گزرا ہوا وقت محبت کے عروج اور گہرے جذباتی لگاؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم، راجدہ کی زندگی میں اس کے چچا زاد بھائی کی اچانک آمد اور پھر بے بسی کے عالم میں اس سے شادی، دونوں کے درمیان مستقل جدائی کا سبب بن جاتی ہے۔ برسوں بعد ایک گھریلو خاتون کے روپ میں راجدہ سے دوبارہ ملنے کے باوجود، راوی مادی دنیا کی دوریوں سے ماورا ہو کر اپنے تخیل اور روح میں بسی 'اپنی راجدہ' کی غیر فانی یادوں میں جینے کا حوصلہ اور تخلیقی توانائی تلاش کر لیتا ہے۔
مٹی کی مونا لیزا
کہانی میں سماجی تفریق، اونچ نیچ کا فرق، غریب اور امیر کی زندگی کی مصیبتوں اور آسانیوں کی خوبصورت عکاسی کی گئی ہے۔ ایک طرف اونچا طبقہ ہے جو آرام کی زندگی بسر کر رہا ہے۔ پڑھنے لکھنے، گھومنے پھرنے کے لیے دوسرے ملکوں میں جا رہا ہے۔ وہیں غریب طبقہ بھی ہے جسے اپنے بچوں کی فیس، ان کی دوائیوں اور دوسری ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لیے ایڑیاں رگڑنی پڑتی ہے۔ ان گھروں کی عورتیں سارا دن کام کرنے کے بعد تھک ہار کر جب رات کو سوتی ہیں تو ان کے چہروں پر بھی مونا لیزا کی مسکان تیر جاتی ہے۔
شاہدرے کی ایک شام
معاشی کمزوریوں کے باعث ناکام حسرتوں والی محبتوں کے المیہ کو اس کہانی میں بیان کیا گیا ہے۔ کہانی کا راوی ایک افسانہ نگار ہے۔ ایک رسالہ کا ایڈیٹر اس سے سنسنی خیز کہانی لکھنے کی فرمائش کرتا ہے۔ یکسوئی کی خاطر وہ نور جہاں کے مقبرہ میں جاتا ہے لیکن وہاں اسے اپنی محبوبہ کا خیال ستاتا ہے جو صرف معاشی کمزوری کی وجہ سے اس کی بیوی نہ بن سکی تھی اور پھر اسے ان ہزاروں نور جہاؤں کا خیال آتا ہے جو اپنے اپنے مزاروں میں دفن ہیں۔ مقبرے کی چہار دیواری سے نکلتے وقت افسانہ نگار محسوس کرتا ہے کہ وہ نور جہاں کے بارے میں کبھی کوئی کہانی نہیں لکھ سکے گا۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
-
