- کتاب فہرست 189031
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2090
ڈرامہ1036 تعلیم393 مضامين و خاكه1557 قصہ / داستان1793 صحت109 تاریخ3629طنز و مزاح757 صحافت220 زبان و ادب1975 خطوط825
طرز زندگی29 طب1053 تحریکات299 ناول5066 سیاسی377 مذہبیات5061 تحقیق و تنقید7445افسانہ3036 خاکے/ قلمی چہرے291 سماجی مسائل121 تصوف2302نصابی کتاب569 ترجمہ4624خواتین کی تحریریں6308-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1491
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح214
- گیت68
- غزل1414
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1682
- کہہ مکرنی7
- کلیات694
- ماہیہ21
- مجموعہ5427
- مرثیہ406
- مثنوی898
- مسدس62
- نعت614
- نظم1325
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ203
- قوالی18
- قطعہ74
- رباعی307
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ73
- واسوخت29
اے۔ حمید کے افسانے
اور پل ٹوٹ گیا
یہ محبت کی ایک عجیب کہانی ہے۔ دو دوست اتفاق سے ایک ہی لڑکی سے محبت کرتے ہیں لیکن اس سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ لڑکی دونوں دوستوں سے یکساں محبت کرتی ہے۔ ایک دوست جب پانچ سال کے لئے بیرون ملک چلا جاتا ہے تو اس لڑکی کی شادی دوسرے دوست سے ہو جاتی ہے لیکن شادی کے کچھ دن بعد ہی لڑکی مر جاتی ہے اور مرتے وقت اپنے شوہر سے وعدہ لیتی ہے کہ وہ اس کی موت کی اطلاع اپنے دوست کو نہیں دے گا۔
ایک رات
بے یار و مددگار سرد ٹھنڈی رات میں سر چھپانے کے لیے جگہ تلاش کرتے ایک ایسے شخص کی کہانی، جسے مسجد سے نکالے جانے پر راستے میں ایک دوسرا شخص مل جاتا ہے۔ اس سے مل کر وہ سوچتا ہے کہ اس کے مسئلے کا حل ہو گیا مگر بعد میں پتہ چلتا ہے کہ وہ بھی اسی کی طرح پناہ کی تلاش میں بھٹک رہا ہے۔ وہ اسے ساتھ لیکر ایک چائے خانے میں چلا جاتا ہے اور وہاں اپنی کہانی سناتا ہے۔ اس کی کہانی سے وہ اتنا متاثر ہوتا ہے کہ اپنے حالات بدلنے کے لیے بھوکا اور تنہا ہی بےرحم دنیا سے ٹکرانے کے لیے نکل پڑتا ہے۔
منزل منزل
راجدہ نے کہا تھا میرے متعلق افسانہ مت لکھنا۔ میں بدنام ہو جاؤں گی۔ اس بات کو آج تیسرا سال ہے اور میں نے راجدہ کے بارے میں کچھ نہیں لکھا اور نہ ہی کبھی لکھوں گا۔ اگرچہ وہ زمانہ جو میں نے اس کی محبت میں بسر کیا، میری زندگی کا سنہری زمانہ تھا اور اس کا
مٹی کی مونا لیزا
کہانی میں سماجی تفریق، اونچ نیچ کا فرق، غریب اور امیر کی زندگی کی مصیبتوں اور آسانیوں کی خوبصورت عکاسی کی گئی ہے۔ ایک طرف اونچا طبقہ ہے جو آرام کی زندگی بسر کر رہا ہے۔ پڑھنے لکھنے، گھومنے پھرنے کے لیے دوسرے ملکوں میں جا رہا ہے۔ وہیں غریب طبقہ بھی ہے جسے اپنی بچوں کی فیس، ان کی دوائیوں اور دوسری ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لیے ایڑیاں رگڑنی پڑتی ہے۔ ان گھروں کی عورتیں سارا دن کام کرنے کے بعد تھک ہار کر جب رات کو سوتی ہیں تو ان کے چہروں پر بھی مونالسا کی مسکان تیر جاتی ہے۔
شاہدرے کی ایک شام
معاشی کمزوریوں کے باعث ناکام حسرتوں والی محبتوں کے المیہ کو اس کہانی میں بیان کیا گیا ہے۔ کہانی کا راوی ایک افسانہ نگار ہے۔ ایک رسالہ کا ایڈیٹر اس سے سنسنی خیز کہانی لکھنے کی فرمائش کرتا ہے۔ یکسوئی کی خاطر وہ نور جہاں کے مقبرہ میں جاتا ہے لیکن وہاں اسے اپنی محبوبہ کا خیال ستاتا ہے جو صرف معاشی کمزوری کی وجہ سے اس کی بیوی نہ بن سکی تھی اور پھر اسے ان ہزاروں نور جہاؤں کا خیال آتا ہے جو اپنے اپنے مزاروں میں دفن ہیں۔ مقبرے کی چہار دیواری سے نکلتے وقت افسانہ نگار محسوس کرتا ہے کہ وہ نور جہاں کے بارے میں کبھی کوئی کہانی نہیں لکھ سکے گا۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2090
-
