- کتاب فہرست 179254
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
ڈرامہ928 تعلیم346 مضامين و خاكه1391 قصہ / داستان1598 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح613 صحافت204 زبان و ادب1731 خطوط744
طرز زندگی30 طب982 تحریکات277 ناول4314 سیاسی355 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6660افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2067نصابی کتاب457 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5894-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1303
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1258
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1609
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4876
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت580
- نظم1195
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ75
- واسوخت26
عبد المجید سالک کے قصے
دل جلے کا تبصرہ
عبدالمجید سالک کو ایک بار کسی دل جلے نے لکھا، ’’آپ اپنے روزنامہ میں گمراہ کن خبریں چھاپتے ہیں اور عام لوگوں کو بے وقوف بناکر اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔‘‘ سالک صاحب نے نہایت حلیمی سے اسے جواب دیتے ہوئے لکھا، ’’ہم توجو کچھ لکھتے ہیں ملک و قوم کی
جانور اور جاندار کا فرق
ایک زمانے میں سالک کی مولانا تاجور سے شکر رنجی ہوگئی۔ ایک محفل میں ادیب شاعر جمع تھے، کسی نے سالکؔ سے پوچھا، ’’تاجور اور تاجدار میں کیا فرق ہے؟‘‘ سالکؔ نے جواب دیا، ’’وہی جو جانور اور جاندار میں ہے۔‘‘
کشمکش
سالک صاحب اور مولانا تاجور، دونوں کے درمیان کشیدگی رہتی تھی۔ ایک مرتبہ سالکؔ کے ایک دوست نے کہا کہ آپ کے درمیان یہ ’’کشمکش‘‘ ٹھیک نہیں، صلح ہوجانی چاہئے۔ سالک بولے، ’’حضور! ہماری طرف سے تو ’’کش‘‘ ہے ’’مکش‘‘ تو تاجور صاحب کرتے ہیں۔ آپ کی نصیحت تو ان
بے غلمان کی جنت
گرمی کے موسم میں کوئی نو عمر ادیب عبدالمجید سالک سے ملنے آئے۔ سالک صاحب کے کمرے میں بجلی کا پنکھا چل رہا تھا جس کی بھینی بھینی خوشبو پھیل رہی تھی اور ہر چیز قرینے سے نفاست سے رکھی ہوئی تھی۔ وہ ادیب کمرے کی شاداب فضا سے متاثر ہوکر کہنے لگا، ’’سالک
وائسرائے اور بائیں ہاتھ کا کھیل
لارڈارون ہندوستان کے وائسرائے مقرر ہوئے۔ ان کا دایاں ہاتھ جنگ میں کٹ چکا تھا۔ مختلف اخبار نے اس تقرری پر مخالفانہ انداز میں لکھا۔ لیکن مولانا سالکؔ نے ’افکار و حوادث‘ میں جس طریقے سے لکھا وہ قابل تعریف ہے لکھتے ہیں، ’’ہندوستان پر حکومت کرناان کے بائیں
بے ایمان خانہ؟
سالکؔ صاحب روزمانہ ’’زمیندار‘‘ میں فکاہیہ کالم ’’افکار و حوادث‘‘ لکھا کرتے تھے۔ ایک زمانے میں وہ ایک بار دہلی آئے تو خواجہ حسن نظامی سے ملنے کے لیے بستی نظام الدین گے۔ خواجہ صاحب بڑے تپاک سے پیش آئے اور درگاہ دکھانے کے لیے ان کو ساتھ لے کے چلے۔ ایک معمولی
مرغ و ماہی کے پیٹ میں مشاعرہ
سالک صاحب ہندو پاک مشاعرے میں شرکت کے لیے دہلی آئے ہوئے تھے۔ مجمع احباب میں گھرے بیٹھے تھے کہ ایک صاحب ذوق نے اپنے یہاں کھانے پر تشریف لانے کی درخواست کی۔ سالکؔ صاحب نے عذر پیش کیا تو خوشتر گرامی نے کہا کہ ’’مولانا ان کی دل شکنی نہ کیجئے، دعوت قبول کر
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
-
