- کتاب فہرست 180681
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1987
ڈرامہ919 تعلیم347 مضامين و خاكه1371 قصہ / داستان1631 صحت108 تاریخ3319طنز و مزاح600 صحافت200 زبان و ادب1251
خطوط725 طرز زندگی30 طب974 تحریکات267 ناول4278 سیاسی349 مذہبیات4767 تحقیق و تنقید6662افسانہ2669 خاکے/ قلمی چہرے235 سماجی مسائل111 تصوف2011نصابی کتاب430 ترجمہ4191-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1254
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح186
- گیت63
- غزل1264
- ہائیکو11
- حمد59
- مزاحیہ31
- انتخاب1583
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ387
- مثنوی735
- مسدس44
- نعت590
- نظم1207
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
عبد المجید سالک کے قصے
دل جلے کا تبصرہ
عبدالمجید سالک کو ایک بار کسی دل جلے نے لکھا، ’’آپ اپنے روزنامہ میں گمراہ کن خبریں چھاپتے ہیں اور عام لوگوں کو بے وقوف بناکر اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔‘‘ سالک صاحب نے نہایت حلیمی سے اسے جواب دیتے ہوئے لکھا، ’’ہم توجو کچھ لکھتے ہیں ملک و قوم کی
جانور اور جاندار کا فرق
ایک زمانے میں سالک کی مولانا تاجور سے شکر رنجی ہوگئی۔ ایک محفل میں ادیب شاعر جمع تھے، کسی نے سالکؔ سے پوچھا، ’’تاجور اور تاجدار میں کیا فرق ہے؟‘‘ سالکؔ نے جواب دیا، ’’وہی جو جانور اور جاندار میں ہے۔‘‘
کشمکش
سالک صاحب اور مولانا تاجور، دونوں کے درمیان کشیدگی رہتی تھی۔ ایک مرتبہ سالکؔ کے ایک دوست نے کہا کہ آپ کے درمیان یہ ’’کشمکش‘‘ ٹھیک نہیں، صلح ہوجانی چاہئے۔ سالک بولے، ’’حضور! ہماری طرف سے تو ’’کش‘‘ ہے ’’مکش‘‘ تو تاجور صاحب کرتے ہیں۔ آپ کی نصیحت تو ان
بے غلمان کی جنت
گرمی کے موسم میں کوئی نو عمر ادیب عبدالمجید سالک سے ملنے آئے۔ سالک صاحب کے کمرے میں بجلی کا پنکھا چل رہا تھا جس کی بھینی بھینی خوشبو پھیل رہی تھی اور ہر چیز قرینے سے نفاست سے رکھی ہوئی تھی۔ وہ ادیب کمرے کی شاداب فضا سے متاثر ہوکر کہنے لگا، ’’سالک
وائسرائے اور بائیں ہاتھ کا کھیل
لارڈارون ہندوستان کے وائسرائے مقرر ہوئے۔ ان کا دایاں ہاتھ جنگ میں کٹ چکا تھا۔ مختلف اخبار نے اس تقرری پر مخالفانہ انداز میں لکھا۔ لیکن مولانا سالکؔ نے ’افکار و حوادث‘ میں جس طریقے سے لکھا وہ قابل تعریف ہے لکھتے ہیں، ’’ہندوستان پر حکومت کرناان کے بائیں
بے ایمان خانہ؟
سالکؔ صاحب روزمانہ ’’زمیندار‘‘ میں فکاہیہ کالم ’’افکار و حوادث‘‘ لکھا کرتے تھے۔ ایک زمانے میں وہ ایک بار دہلی آئے تو خواجہ حسن نظامی سے ملنے کے لیے بستی نظام الدین گے۔ خواجہ صاحب بڑے تپاک سے پیش آئے اور درگاہ دکھانے کے لیے ان کو ساتھ لے کے چلے۔ ایک معمولی
مرغ و ماہی کے پیٹ میں مشاعرہ
سالک صاحب ہندو پاک مشاعرے میں شرکت کے لیے دہلی آئے ہوئے تھے۔ مجمع احباب میں گھرے بیٹھے تھے کہ ایک صاحب ذوق نے اپنے یہاں کھانے پر تشریف لانے کی درخواست کی۔ سالکؔ صاحب نے عذر پیش کیا تو خوشتر گرامی نے کہا کہ ’’مولانا ان کی دل شکنی نہ کیجئے، دعوت قبول کر
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1987
-
