Abul Kalam Azad's Photo'

ابوالکلام آزاد

1888 - 1958 | دلی, ہندوستان

ہندوستان کی تحریک آزادی کے بڑے رہنماؤں میں شامل، عظیم عالم اور مفکر

ہندوستان کی تحریک آزادی کے بڑے رہنماؤں میں شامل، عظیم عالم اور مفکر

ابوالکلام آزاد

مضمون 4

 

اشعار 2

بے خود بھی ہیں ہشیار بھی ہیں دیکھنے والے

ان مست نگاہوں کی ادا اور ہی کچھ ہے

کوئی نالاں کوئی گریاں کوئی بسمل ہو گیا

اس کے اٹھتے ہی دگرگوں رنگ محفل ہو گیا

 

غزل 3

 

کتاب 253

آئینہ ابوالکلام آزاد

مجموعہ مقالات

1976

آثار ابوالکلام آزاد : ایک نفسیاتی مطالعہ

 

1958

آثار آزاد

نیشنل آرکائیوز میں محفوظ آزاد کی نادر تحریریں

1990

آثار آزاد

 

1988

آثارو نقوش

 

1997

آزاد کی تقریریں

 

1961

آزاد کی تقریریں

 

1988

آزاد نے کہا تھا:اتحاد اور آزادی

 

1997

آزادی ہند

 

2003

ابوالکلام آزاد

 

1987

تصویری شاعری 1

ان شوخ حسینوں کی ادا اور ہی کچھ ہے اور ان کی اداؤں میں مزا اور ہی کچھ ہے یہ دل ہے مگر دل میں بسا اور ہی کچھ ہے دل آئینہ ہے جلوہ_نما اور ہی کچھ ہے ہم آپ کی محفل میں نہ آنے کو نہ آتے کچھ اور ہی سمجھے تھے ہوا اور ہی کچھ ہے بے_خود بھی ہیں ہوشیار بھی ہیں دیکھنے والے ان مست نگاہوں کی ادا اور ہی کچھ ہے آزادؔ ہوں اور گیسوئے_پیچاں میں گرفتار کہہ دو مجھے کیا تم نے سنا اور ہی کچھ ہے

 

متعلقہ مصنفین

  • روش صدیقی روش صدیقی ہم عصر

"دلی" کے مزید مصنفین

  • طالب دہلوی طالب دہلوی
  • گوپی چند نارنگ گوپی چند نارنگ
  • دیوندر ستیارتھی دیوندر ستیارتھی
  • شمیم حنفی شمیم حنفی
  • عتیق اللہ عتیق اللہ
  • سطوت رسول سطوت رسول
  • غضنفر غضنفر
  • ابو بکر عباد ابو بکر عباد
  • ناصر نذیر فراق دہلوی ناصر نذیر فراق دہلوی
  • ماسٹر رام چندر ماسٹر رام چندر