- کتاب فہرست 184416
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
ادب اطفال1921
طب869 تحریکات290 ناول4296 -
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی11
- اشاریہ5
- اشعار64
- دیوان1432
- دوہا64
- رزمیہ98
- شرح182
- گیت81
- غزل1079
- ہائیکو12
- حمد44
- مزاحیہ36
- انتخاب1540
- کہہ مکرنی6
- کلیات671
- ماہیہ19
- مجموعہ4828
- مرثیہ374
- مثنوی814
- مسدس57
- نعت533
- نظم1194
- دیگر68
- پہیلی16
- قصیدہ179
- قوالی19
- قطعہ60
- رباعی290
- مخمس17
- ریختی12
- باقیات27
- سلام33
- سہرا9
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ13
- تاریخ گوئی28
- ترجمہ73
- واسوخت26
احمد صغیر کے افسانے
ہم سفر
شام نے اپنے گیسو پھیلا دئیے تھے۔ سورج آہستہ آہستہ روپوش ہو رہا تھا اور ہر آدمی جلدی جلدی اپنے گھر پہنچنے کے لئے بس اسٹاپ کی طرف بھاگ رہا تھا۔ میں بھی اپنے دفتر سے نکل کر بس اسٹاپ پر آ گیا اور ایک بینچ پر بیٹھ کر بس کا انتظار کرنے لگا۔ مجھے جامعہ نگر
ہم سفر
شام نے اپنے گیسو پھیلا دئیے تھے۔ سورج آہستہ آہستہ روپوش ہو رہا تھا اور ہر آدمی جلدی جلدی اپنے گھر پہنچنے کے لئے بس اسٹاپ کی طرف بھاگ رہا تھا۔ میں بھی اپنے دفتر سے نکل کر بس اسٹاپ پر آ گیا اور ایک بینچ پر بیٹھ کر بس کا انتظار کرنے لگا۔ مجھے جامعہ نگر
تعفن
غروب ہوتے ہوئے سورج کی زرنگار شعاعیں جب گاؤں کے خلط ملط مکانوں کی منڈیروں کو چومتے ہوئے مغرب کی سمت جھکنے لگیں اور کچھ ہی لمحوں میں نظروں سے اوجھل ہو گئیں تو خلاف دستور یکایک فضا پر ایک دبیز اداس افسردہ سی کیفیت مسلط ہو گئی۔ اس وقت کا رو مانجھی گاؤں
تعفن
غروب ہوتے ہوئے سورج کی زرنگار شعاعیں جب گاؤں کے خلط ملط مکانوں کی منڈیروں کو چومتے ہوئے مغرب کی سمت جھکنے لگیں اور کچھ ہی لمحوں میں نظروں سے اوجھل ہو گئیں تو خلاف دستور یکایک فضا پر ایک دبیز اداس افسردہ سی کیفیت مسلط ہو گئی۔ اس وقت کا رو مانجھی گاؤں
منڈیر پر بیٹھا پرندہ
آنکھوں میں آسمان! پیروں میں سفر! ہاتھوں میں پتھّر! وہ پرندہ کب کہاں مل جائے جس کی تلاش نے مجھے گلی کوچوں کی خاک چھاننے پر مجبور کر دیا۔ میں کتنے مزے سے اپنے گھر میں سکھ کی سانس لے رہا تھا کہ اچانک میری منڈیر پر وہ ایک پرندہ نظر آ گیا۔ پہلے تو
منڈیر پر بیٹھا پرندہ
آنکھوں میں آسمان! پیروں میں سفر! ہاتھوں میں پتھّر! وہ پرندہ کب کہاں مل جائے جس کی تلاش نے مجھے گلی کوچوں کی خاک چھاننے پر مجبور کر دیا۔ میں کتنے مزے سے اپنے گھر میں سکھ کی سانس لے رہا تھا کہ اچانک میری منڈیر پر وہ ایک پرندہ نظر آ گیا۔ پہلے تو
میں دامنی نہیں ہوں
شام نے اپنے چہرے پر کالک مل کراپنی سیاہی کو اور زیادہ سیاہ کر لیا، رات دھیرے دھیرے اپنا پاؤں پھیلانے لگی۔ رات جب آتی ہے تو دن بھر کا تھکا ماندا انسان اپنی تکان مٹانے کے لئے اپنے تھکے بدن کو بستر پر پھیلا کر آرام کی نیند سو جاتا ہے مگر شہر کے کچھ علاقے
میں دامنی نہیں ہوں
شام نے اپنے چہرے پر کالک مل کراپنی سیاہی کو اور زیادہ سیاہ کر لیا، رات دھیرے دھیرے اپنا پاؤں پھیلانے لگی۔ رات جب آتی ہے تو دن بھر کا تھکا ماندا انسان اپنی تکان مٹانے کے لئے اپنے تھکے بدن کو بستر پر پھیلا کر آرام کی نیند سو جاتا ہے مگر شہر کے کچھ علاقے
پیاسی ہے زمیں، پیاسا آسماں
غروب ہوتے ہوئے سورج کی زر نگار شعاعیں جب گاؤں کے خلط ملط مکانوں کی منڈیروں کو چومتے ہوئے مغرب کی سمت جھکنے لگیں اور کچھ ہی لمحوں میں نظروں سے اوجھل ہو گئیں تو خلاف دستور یکایک فضا پر ایک دبیز اداس افسردہ سی کیفیت مسلط ہو گئی۔ اس وقت کا رو مانجھی گاؤں
پیاسی ہے زمیں، پیاسا آسماں
غروب ہوتے ہوئے سورج کی زر نگار شعاعیں جب گاؤں کے خلط ملط مکانوں کی منڈیروں کو چومتے ہوئے مغرب کی سمت جھکنے لگیں اور کچھ ہی لمحوں میں نظروں سے اوجھل ہو گئیں تو خلاف دستور یکایک فضا پر ایک دبیز اداس افسردہ سی کیفیت مسلط ہو گئی۔ اس وقت کا رو مانجھی گاؤں
مسیحائی
دھیرے دھیرے ماریہ نے آنکھیں کھولیں—‘ اس نے نگاہیں اٹھا کر دیکھا — چاروں طرف گہری خاموشی اور بلا کا سناٹا چھا یا ہوا تھا۔ آسمان پر سیاہ بادل مسلط تھے۔ ماریہ نے آس پاس نظریں گھمائیں۔ وہ ایک کیچڑ سے بھرے گندے گڑھے میں پڑی تھی۔ اس کے آس پاس گندے پانی
مسیحائی
دھیرے دھیرے ماریہ نے آنکھیں کھولیں—‘ اس نے نگاہیں اٹھا کر دیکھا — چاروں طرف گہری خاموشی اور بلا کا سناٹا چھا یا ہوا تھا۔ آسمان پر سیاہ بادل مسلط تھے۔ ماریہ نے آس پاس نظریں گھمائیں۔ وہ ایک کیچڑ سے بھرے گندے گڑھے میں پڑی تھی۔ اس کے آس پاس گندے پانی
شدھی کرن
بوڑھے شجر پر صبح کی کرنیں جب پڑتیں، کرشنا چودھری کی آنکھوں میں ایک نئی چمک نمودار ہو جاتی۔ اسکی پلکوں پہ خوشی کے تارے جھلملانے لگتے۔ ایک خواب تھا جو برسوں سے اس کی آنکھیں دیکھتی آ رہی تھیں۔ خواب پہلے پہل دھندلا سا نظر آتا تھا لیکن جیسے جیسے اسکا بیٹا
شدھی کرن
بوڑھے شجر پر صبح کی کرنیں جب پڑتیں، کرشنا چودھری کی آنکھوں میں ایک نئی چمک نمودار ہو جاتی۔ اسکی پلکوں پہ خوشی کے تارے جھلملانے لگتے۔ ایک خواب تھا جو برسوں سے اس کی آنکھیں دیکھتی آ رہی تھیں۔ خواب پہلے پہل دھندلا سا نظر آتا تھا لیکن جیسے جیسے اسکا بیٹا
پناہ گاہ
نہ جانے کہاں سے لکھمنیاکی ریگستان کی طرح خشک آنکھوں میں پانیوں کا سیلاب امڈ آیا۔ اس کا دل بھر آیا۔ اس نے اپنی چھ سالہ بیٹی سمتا کو زور سے بھینچ لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ سمتا بھی ماں کو روتا دیکھ کر بلک پڑی۔ بیٹی کو بلکتا دیکھ کر لکھمنیا نے اسے
پناہ گاہ
نہ جانے کہاں سے لکھمنیاکی ریگستان کی طرح خشک آنکھوں میں پانیوں کا سیلاب امڈ آیا۔ اس کا دل بھر آیا۔ اس نے اپنی چھ سالہ بیٹی سمتا کو زور سے بھینچ لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ سمتا بھی ماں کو روتا دیکھ کر بلک پڑی۔ بیٹی کو بلکتا دیکھ کر لکھمنیا نے اسے
ہوا شکار
اس لڑکی کو میں نے ایک دن کے لئے خریدا تھا۔ پورے چوبیس گھنٹے کے لئے۔ وہ بےحد حسین تھی ‘اتنی حسین کہ کوئی ایک بار دیکھ لے تو اس کے اندر اسے پانے کی خواہش جاگ اٹھے۔ جب وہ میرے سامنے آئی تو کچھ دیر کے لئے میں حیرت میں پڑ گیا۔ اتنی حسین لڑکی اور اس پیشے میں؟
ہوا شکار
اس لڑکی کو میں نے ایک دن کے لئے خریدا تھا۔ پورے چوبیس گھنٹے کے لئے۔ وہ بےحد حسین تھی ‘اتنی حسین کہ کوئی ایک بار دیکھ لے تو اس کے اندر اسے پانے کی خواہش جاگ اٹھے۔ جب وہ میرے سامنے آئی تو کچھ دیر کے لئے میں حیرت میں پڑ گیا۔ اتنی حسین لڑکی اور اس پیشے میں؟
انا کو آنے دو
سارا گاؤں دہشت گردوں کا نشانہ بن چکا تھا—————‘ آہستہ آہستہ گھروں سے اٹھتے شعلے اب دھواں بن چکے تھے۔ گلیاں ویران تھیں ‘لوگ اپنے اپنے گھروں میں یوں چھپے بیٹھے تھے جیسے مرغیاں دربوں میں دبکی رہتی ہیں۔ آسمان کا کنارہ تک سیاہ مائل ہو چکا تھا اور ہر طرف
انا کو آنے دو
سارا گاؤں دہشت گردوں کا نشانہ بن چکا تھا—————‘ آہستہ آہستہ گھروں سے اٹھتے شعلے اب دھواں بن چکے تھے۔ گلیاں ویران تھیں ‘لوگ اپنے اپنے گھروں میں یوں چھپے بیٹھے تھے جیسے مرغیاں دربوں میں دبکی رہتی ہیں۔ آسمان کا کنارہ تک سیاہ مائل ہو چکا تھا اور ہر طرف
سمندر جاگ رہا ہے
بھیانک رات۔۔۔! گھٹا ٹوپ اندھیرا اور اندھیرے میں ڈوبا ایک جزیرہ‘ جزیرے کے وسط میں ایک شہر لیس بوس (LES BOSE)، ویران سڑکیں اور خاموشی کا سینہ چیرتی تیز رفتار گاڑیوں کی آوازیں۔ جیسے جیسے رات بھیگتی گئی آوازیں مدھم پڑتی گئیں اور ایک وقت ایسا آیا کہ آوازیں
سمندر جاگ رہا ہے
بھیانک رات۔۔۔! گھٹا ٹوپ اندھیرا اور اندھیرے میں ڈوبا ایک جزیرہ‘ جزیرے کے وسط میں ایک شہر لیس بوس (LES BOSE)، ویران سڑکیں اور خاموشی کا سینہ چیرتی تیز رفتار گاڑیوں کی آوازیں۔ جیسے جیسے رات بھیگتی گئی آوازیں مدھم پڑتی گئیں اور ایک وقت ایسا آیا کہ آوازیں
ڈوبتا ابھرتا ساحل
موسم گرما کی سخت دھوپ میں آگ اگلتے راستوں سے کچھ پرے، سگنی داتون بیچتی رہتی۔ منہ اندھیرے وہ بستر سے اٹھ کر ہتھیلیوں سے آنکھوں کو ملتی گھر سے نکل جاتی۔ وہ چند روپیوں کے لیے سورج میں اپنے جسم و جاں کو جلاتی رہتی اور جب اُسے یقین ہو جاتا کہ اب وہاں کوئی
ڈوبتا ابھرتا ساحل
موسم گرما کی سخت دھوپ میں آگ اگلتے راستوں سے کچھ پرے، سگنی داتون بیچتی رہتی۔ منہ اندھیرے وہ بستر سے اٹھ کر ہتھیلیوں سے آنکھوں کو ملتی گھر سے نکل جاتی۔ وہ چند روپیوں کے لیے سورج میں اپنے جسم و جاں کو جلاتی رہتی اور جب اُسے یقین ہو جاتا کہ اب وہاں کوئی
گھر واپسی
رحمان اور سلمان کی گھر واپسی ہو گئی یعنی مسلمان سے ہندو ہو گئے۔ اب ان کا نام راما نند اور ستیندر رکھا گیا۔ ایک مذہبی تقریب میں اگنی کے سامنے دونوں کو بیٹھا کر اشلوک پڑھائے گئے۔ گنگا جل کا چھڑکاؤ کیا گیا۔ ماتھے پر تلک لگایا گیا اور پرساد کھلائے گئے۔ یہ
گھر واپسی
رحمان اور سلمان کی گھر واپسی ہو گئی یعنی مسلمان سے ہندو ہو گئے۔ اب ان کا نام راما نند اور ستیندر رکھا گیا۔ ایک مذہبی تقریب میں اگنی کے سامنے دونوں کو بیٹھا کر اشلوک پڑھائے گئے۔ گنگا جل کا چھڑکاؤ کیا گیا۔ ماتھے پر تلک لگایا گیا اور پرساد کھلائے گئے۔ یہ
شکستگی
رات آدھی گزر چکی تھی۔ شہر کی رونق میں کمی آگئی تھی۔ گھروں اور سڑکوں کے بلب تھکے تھکے لگ رہے تھے جیسے جلتے جلتے اب اس میں جلنے کی سکت نہیں رہی تھی لیکن شالنی تھکے ہونے کے باوجود بستر پر کروٹیں بدل رہی تھی۔ کئی دنوں سے اس کی آنکھوں سے نیند ہجرت کر
شکستگی
رات آدھی گزر چکی تھی۔ شہر کی رونق میں کمی آگئی تھی۔ گھروں اور سڑکوں کے بلب تھکے تھکے لگ رہے تھے جیسے جلتے جلتے اب اس میں جلنے کی سکت نہیں رہی تھی لیکن شالنی تھکے ہونے کے باوجود بستر پر کروٹیں بدل رہی تھی۔ کئی دنوں سے اس کی آنکھوں سے نیند ہجرت کر
join rekhta family!
-
ادب اطفال1921
-