- کتاب فہرست 180695
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
ڈرامہ921 تعلیم347 مضامين و خاكه1376 قصہ / داستان1655 صحت108 تاریخ3343طنز و مزاح603 صحافت201 زبان و ادب1141
خطوط724 طرز زندگی30 طب974 تحریکات268 ناول4275 سیاسی349 مذہبیات4769 تحقیق و تنقید6695افسانہ2671 خاکے/ قلمی چہرے237 سماجی مسائل111 تصوف2014نصابی کتاب440 ترجمہ4185-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار70
- دیوان1254
- دوہا50
- رزمیہ99
- شرح186
- گیت63
- غزل1263
- ہائیکو11
- حمد59
- مزاحیہ31
- انتخاب1582
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ386
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت590
- نظم1209
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
اختر حسین رائے پوری کے افسانے
جسم کی پکار
اسلم کی آنکھ دیر سے کھل چکی تھی لیکن وہ دم سادھے ہوئے بستر پر پڑا رہا۔ کمرے کے اندر بھی اتنا اندھیرا نہ تھا جتنا کہ باہر۔ کیوں کہ دنیا کہا سہ کے کا فوری کفن میں لپٹی ہوئی تھی تاہم اکا دکا کوئے کی چیخ پکار اور برف پر رینگتی ہوئی گاڑیوں کی مسوسی ہوئی آواز
میری ڈائری کے چند ورق
12 جون اس عالم بیداری میں جانداروں کے اس اژدھام عظیم میں زندگی کی اس پر شور روانی میں رہتے ہوئے بھی محسوس ہوتا ہے کہ میں اکیلا ہوں۔ اکیلا، بالکل اکیلا، میری تنہائی اس قیدی سے بھی زیادہ المناک ہے جو ایک چہار دیواری میں بند ہونے کے بعد یہ سوچ ہی رہا
زبان بے زبانی
میں برگد کا ایک عمر رسیدہ درخت ہوں، غیر فانی اور ابدی! نہ جانے کتنی مدت سے میں تن تنہا اور خاموش کھڑا ہوں۔ برقرار نہ بیقرار! بےزبان اور نغمہ زن! یاد نہیں کتنی مرتبہ کڑکڑاتی سردیوں میں اپنی بےبرگ شاخوں سے کوہاسہ کی چادر ہٹا کر میں نے فریاد کی ہے، نہ
عورت
ایک ایسا زمانہ آیا جب تمام کائنات پر عقل و شعور کی حکومت کار فرما ہو گئی اور جذبات یکسر معدوم ہو گئے۔ اس کی تفصیل یوں ہے: جب سماج اور قدرت پر انسان نے ایسا تسلط حاصل کر لیا کہ نظام معاشی میں کسی قسم کا خلل پیدا نہ ہو سکے اور حیات و ممات کے مسائل
مجھے جانے دو
’’مجھے جانے دو‘‘ اس نے کہا اور جب تک میں اسے روکوں وہ ہاتھ چھڑا کر جا چکی تھی۔ اندھیرے میں اس کی آنکھوں کی ایک جھپک اور دہلیز پر پاؤں کے بچھوے کی ایک جھنک سنائی دی۔ وہ چلی گئی اور میں کوٹھڑی میں اکیلا رہ گیا۔ میں وہاں جانا نہ چاہتا تھا۔ میں اکثر
وہ دونوں
اندھیرے میں کچھ مردے چپ چاپ بیٹھے ہوئے تھے۔ اوپرموت کی ہلکی ہلکی تاریکی نور کی چٹانوں میں جم رہی تھی اور نیچے زندگی موریوں میں پگھل رہی تھی۔ ان میں سے ایک نے کہا، ’’آؤ اب ہم اس دنیا کی باتیں کریں جسے ہم ہمیشہ کے لئے چھوڑ آئے ہیں۔ دیکھو، مٹی کی
میرا گھر
وہ گھر، جو گویا ملک کا پڑپوتا تھا۔ صوبے کے بیٹے شہر کے چھوکرے محلہ کا لڑکا۔۔۔ وہ بہت بڑا تھا۔ یہ نہ میرا گھر تھا نہ میرے باپ کا۔ بلکہ ایک سیٹھ کا مکان تھا، اس میں بہت سے کمرے تھے جس طرح مکڑی کے جالے میں بہت سے خانے ہوتے ہیں، بہت سے لوگ مکھیوں کی طرح
اندھا بھکاری
کلکتہ کا ایک مکروہ محلہ۔۔۔ پچھلے پہر کا وقت۔ جاڑے کی راتیں۔۔۔ ٹھنڈی ہوا کے جھکڑ۔ ہوا تاڑی اور بنگلا کی بدبو سے بوجھل ہو رہی ہے۔ گلیوں میں آبخوروں کے ٹکڑے، بوتلوں کی کرچیں، جھوٹے پتل اور انڈوں کے چھلکے بکھرے پڑے ہیں۔ طوائفیں منہ چھپائے سو رہی ہیں۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
-
