- کتاب فہرست 179374
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
ڈرامہ927 تعلیم345 مضامين و خاكه1392 قصہ / داستان1602 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح612 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط744
طرز زندگی30 طب982 تحریکات277 ناول4318 سیاسی355 مذہبیات4766 تحقیق و تنقید6656افسانہ2703 خاکے/ قلمی چہرے250 سماجی مسائل111 تصوف2067نصابی کتاب458 ترجمہ4305خواتین کی تحریریں5895-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1257
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1610
- کہہ مکرنی7
- کلیات586
- ماہیہ20
- مجموعہ4873
- مرثیہ389
- مثنوی775
- مسدس41
- نعت580
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ185
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
اسلم جمشید پوری کے افسانے
ایک ادھوری کہانی
‘’پھر یوں ہوا کہ اچانک شہزادہ غائب ہو گیا۔۔’’ شادمانی بیگم سانس لینے کو رکیں تو بچوں کے سوالوں کی بوچھار ہو نے لگی۔ ‘’نانی آپا! ایسا کیسے ہو گیا۔۔۔؟’’ریحان کا تجسس اس کی زبان پر آ گیا۔ ‘’دادی آپا! شہزادہ کہاں چلا گیا؟ کیا پری اسے لے گئی؟’’ سمیہ
عید گاہ سے واپسی
پریم چند کا ننھا حامد ستر سال کا بزرگ میاں حامد ہو گیا تھا۔ اسے اپنے بچپن کا ہر واقعہ یاد تھا۔ اسے یہ بھی یاد تھا کہ وہ بچپن میں عید کی نماز کے لیے گیا تھا تو واپسی میں تین پیسے کا چمٹا خرید کر لایا تھا۔ اس وقت اس کے دوستوں نے اس کا مذاق بنایا تھا۔ لیکن
بنتے مٹتے دائرے
وہ خصوصی طور پر آسمان سے نہیں اتری تھی۔ اسی گاؤں میں پیدا ہوئی۔ بڑی ہوئی اور اب گاؤں کی پہچان بنی ہوئی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ گاؤں کی پہلی لڑکی تھی جس نے ظلم سہا اور آہستہ آ ہستہ خود کو ظلم کے خلاف کھڑا بھی کیا۔ وہ عام سی لڑکی تھی۔ وہ، ماتا دین
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1993
-
