- کتاب فہرست 178107
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1985
ڈرامہ918 تعلیم343 مضامين و خاكه1375 قصہ / داستان1578 صحت105 تاریخ3275طنز و مزاح607 صحافت201 زبان و ادب1707 خطوط736
طرز زندگی30 طب976 تحریکات272 ناول4285 سیاسی354 مذہبیات4729 تحقیق و تنقید6590افسانہ2686 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2032نصابی کتاب450 ترجمہ4242خواتین کی تحریریں5862-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1277
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح180
- گیت63
- غزل1254
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ31
- انتخاب1596
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4836
- مرثیہ386
- مثنوی747
- مسدس41
- نعت575
- نظم1189
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
چودھری محمد علی ردولوی کے افسانے
تیسری جنس
اپنی خوبصورتی کے لیے مشہور ایک غریب ماں باپ کی بیٹی کی کہانی جو ایک بہتر زندگی کی تلاش میں تھی۔ وہ تحصیلدار صاحب کے زیر سایہ پلی بڑھی تھی۔ جوانی کے ابتدائی ایام میں اس کی شادی ہوئی تو کچھ عرصہ شوہر کے ساتھ رہنے کے بعد اس نے اسے بھی چھوڑ دیا، پھر تحصیلدار صاحب کی موت ہو گئی۔ بعد میں ایک مردوں جیسی قدوقامت کی عورت اس کے گھر میں رہنے لگی اور لوگوں کے درمیان ان کے بارے میں طرح طرح کی باتیں ہونے لگیں۔
میٹھا معشوق
یہ اس وقت کی کہانی ہے جب ریل ایجاد نہیں، ہوئی تھی لوگ پیدل،اونٹ یا پھر گھوڑوں پر سفر کیا کرتے تھے۔ لکھنئو شہر میں ایک شخص پر مقدمہ چل رہا تھا اور وہ شخص شہر سے کافی دور رہتا تھا۔ مقدمے کی تاریخ پر حاضر ہونے کے لیے وہ اپنے قافلے کے ساتھ شہر کے لیے روانہ ہو گیا، ساتھ میں نذرانے کے طور پر میٹھائی کا ٹوکرا بھی تھا۔ پورے راستے اس میٹھے معشوق کی وجہ سے انھیں کچھ ایسی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ آرام سے سو تک نہیں سکے۔
روزہ خور کی سزا
ایک ایسے شیخ صاحب کی کہانی ہے جن کا ہڈیوں کا کاروبار تھا۔ کچھ پرانی کتابوں کی وجہ سے ان کے کئی پڑھے لکھے لوگوں سے مراسم ہو گئے تھے۔ انھیں میں سے ایک نے شیخ صاحب کو بتایا کہ فلاں شخص کہتا ہے کہ اس کی کوئی چیز آپ کے پاس رہن ہے، اگر آپ اسے دے دیں گے تو اسے کچھ سو روپوں کا فائدہ ہو جائیگا۔ شیخ نے اپنے دوست کی بات مان کر اس شخص کو بلا بھیجا، لیکن وہ شخص اکیلا نہیں آیا، اس کے ساتھ ایک دوسرا شخص بھی تھا، جس نے سب کے سامنے شیخ صاحب کی حقیقت بیان کر دی۔
دور کا نشانہ
افسانہ ایک ایسے منشی کی داستان کو بیان کرتا ہے جو اپنی ہر خواہشات کو بصد شوق پورا کرنے کا قائل ہے۔ اس کا کامیاب کاروبار ہے اور چوک جو کہ بازار حسن ہے، تک بھی آنا جانا لگا رہتا ہے۔ ایسے میں اس کی ملاقات ایک طوائف سے ہو جاتی ہے۔ ایک روز وہ طوائف کے ہاں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک پولیس والے نے اس کے آدمی کے ساتھ مارپیٹ کرلی۔ طوائف چاہتی ہے کہ منشی باہر جائے اور وہ اس پولیس والے کو سبق سکھائے، لیکن منشی جی کی سرد مہری دیکھ کر وہ ان سے خفا ہو جاتی ہے۔
عشق بالواسطہ
افسانے میں ایک بے میل محبت کی عکاسی کی گئی ہے جس میں سیاست، فلسفہ اور اس کے ساتھ ہی مرد کی زندگی میں عورت کی مداخلت پر تبصرہ ہے۔ ایک پارٹی سے واپس آنے کے بعد وہ دونوں جج صاحب کے ہاں تشریف لے گیے، وہاں جج صاحب تو نہیں ملے لیکن ایک نئی خاتون ضرور ملی۔ وہ نظریاتی طور پر کمیونسٹ تھی، وہ اسکے ساتھ گھومنے نکل گئے۔ یہ تفریح ایک نظریات میں شامل ہونے کا اشارہ تھا۔
گناہ کا خوف
مختاری کے پیشے میں مشہور ایک ایسے شخص کی کہانی جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اگر انھوں نے بیرسٹر کا امتحان پاس کر لیا ہوتا تو ہائی کورٹ کے سب سے بہترین وکیل ہوتے۔ انھوں نے اپنے پیشے سے دولت شہرت سب کچھ حاصل کی، سیاست میں بھی ہاتھ آزمایا۔ انھوں نے نیا گھر بنایا۔ ایک روز انکا دوست ایک طوائف کی بیٹی کو ان کےنئے مکان پر لے آیا، چونکہ مذہبی قسم کے آدمی تھے اسلیے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ابھی اس گھر میں میلاد شریف نہیں ہوا ہے۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1985
-
