- کتاب فہرست 179910
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1394 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3319طنز و مزاح614 صحافت202 زبان و ادب1731 خطوط746
طرز زندگی30 طب977 تحریکات277 ناول4313 سیاسی356 مذہبیات4769 تحقیق و تنقید6671افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے249 سماجی مسائل111 تصوف2058نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5900-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1613
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4863
- مرثیہ388
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت578
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی274
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
دیوندر اسر کے افسانے
مردہ گھر
مذہب کے نام پر ہونے والے قتل و غارت کو بنیاد بنا کر لکھی گئی یہ کہانی ایک لاش کے ذریعے انسانی فطرت کو بیان کرتی ہے۔ مردہ گھر میں ابھی ابھی کچھ لاشیں آئی ہیں۔ انہیں لاشوں میں وہ لاش بھی ہے۔ وہ لاش مردہ گھر کے پس منظر کو دیکھتی ہے اور آپ بیتی سنانے لگتی ہے۔ اس آپ بیتی میں وہ ان حادثات کا بھی ذکر کرتی ہے، جن میں دنیا کے ہزاروں لاکھوں لوگ قتل ہوئے اور ان کی لاشوں کو سڑنے کے لیے لاوارث چھوڑ دیا گیا۔
بجلی کا کھمبا
چند روز ہوئے، ہوٹل کے مالک نے ایک شام مجھ سے کہا، ’’ہمیں جینیس نہیں چاہئے مسٹر اور تم تو سوپرجینیس ٹھہرے۔ شاعر اور کہانی کار۔ ہمیں تو وہ آدمی چاہئے جو مشین کی طرح تیز رفتاری سے کیلکولیٹر پر روپے پیسے کے بل بناسکے۔‘‘ پھر وہ مسکرایا، ’’اور تم ہینڈل پر
ریت اور سمندر
’’یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے، جسے نینیتال ٹور کے دوران ایک ساتھی پریش مل جاتا ہے۔ وہ اس کا روم میٹ ہے۔ پریش کو دنیا کی خوبصورتی میں ذرا بھی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ کمرے میں پڑا ہر وقت کتابوں میں غرق رہتا ہے۔ ایک شام جب اس کا ساتھی کلب سے لوٹا تو نندنی بھی اس کے ساتھ تھی۔ نندنی ایک چلبلی اور زندگی کی رنگینیوں سے لبریز لڑکی تھی۔ جب وہ پریش سے ملی تو اس کے سبھی خیالات یکبارگی بدل گئے اور وہ زندگی کی رنگینیوں کو چھوڑ کر اس کی تلاش میں نکل پڑی۔‘‘
کالے گلاب کی صلیب
سلویا کے کمرے میں جاتے ہوئے مجھے عجیب سی دہشت محسوس ہونے لگی۔ سلویا کو پہلی بار میں نے ایک پارٹی میں دیکھاتھا۔ پیلے پھولوں والی اسکرٹ اور سرخ بلاؤز میں وہ کتنی شوخ نظر آرہی تھی۔ ایک میز سے دوسری میز تک وہ خوشبو کی طرح تیر رہی تھی۔ عسرت کی لہروں پر
سیاہ تل
دروازے پر دوبارہ دستک ہوئی۔ میں نے دروازہ کھولا۔ باہر وہ کھڑا تھا، اسے میں نہیں جانتا تھا۔ ’’پہچانا مجھے۔۔۔‘‘ اس نے سوال کیا۔ ’’نہیں شاید!‘‘ مجھے یاد نہیں آرہا تھا کہ وہ کون ہے، اسے کہاں دیکھا تھا۔ شاید اسے میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا
تین خاموش چیزیں اور ایک زرد پھول
’’سماوار میں اور کوئلے ڈال دوں۔‘‘ بوڑھے سرائے والے نے پوچھا۔ ہم نے اثبات میں سر ہلادیا۔ ’’اس برس خوب سردی پڑے گی۔‘‘ ’’ہاں کچھ آثار تو ایسے ہیں، دسمبر کے دوسرے ہفتہ ہی میں برف گرنی شروع ہوگئی۔‘‘ ’’پچھلے سال تو کرسمس پر پہلے روز برف پڑی تھی۔‘‘ ’’تم
روح کا ایک لمحہ اور سولی پر پانچ برس
اوورکوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اور کالر اٹھائے میں پلیٹ فارم پر کھڑا تھا۔ میری جیب میں خط پڑا تھا، جسے بار بار میں انگلیوں سے چھو رہا تھا اور محسوس کر رہا تھا کہ انگلیاں ایک ایک لفظ کو پڑھ رہی ہیں۔ ۲۲کو فرنٹیئر سے آرہی ہوں۔۔۔ نشی۔ آج دسمبر کی ۲۲تاریخ
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
