- کتاب فہرست 188827
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں75
ادب اطفال2090
ڈرامہ1035 تعلیم388 مضامين و خاكه1556 قصہ / داستان1784 صحت109 تاریخ3601طنز و مزاح758 صحافت219 زبان و ادب1979 خطوط823
طرز زندگی29 طب1052 تحریکات299 ناول5077 سیاسی375 مذہبیات5042 تحقیق و تنقید7440افسانہ3039 خاکے/ قلمی چہرے293 سماجی مسائل121 تصوف2294نصابی کتاب572 ترجمہ4618خواتین کی تحریریں6319-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1491
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح212
- گیت68
- غزل1391
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1680
- کہہ مکرنی7
- کلیات725
- ماہیہ21
- مجموعہ5416
- مرثیہ405
- مثنوی897
- مسدس62
- نعت612
- نظم1326
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ203
- قوالی18
- قطعہ74
- رباعی307
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ74
- واسوخت29
عبادت بریلوی کا تعارف
عبادت بریلوی کی پیدائش 14؍اگست 1920ء میں ہوئی۔ حصول تعلیم کے بعد تدریسی زندگی اختیار کی۔ پہلے اینگلوعربک کالج دہلی میں مدرس ہوئے لیکن تقسیم ملک کے بعد ہجرت کر کے پاکستان چلے گئے۔ لاہور میں اورینٹل کالج، پنجاب یونیورسٹی سے وابستہ ہوئے اور ترقی کرتے ہوئے شعبہ اردو کے صدر بن گئے۔ ڈین فیکلٹی آف آرٹس بھی ہوئے۔ اورینٹل کالج کے پرنسپل بھی رہے۔ 1980ء میں اپنے عہدہ سے سبکدوش ہوئے۔ عبادت بریلوی نے انقرہ یونیورسٹی، ٹرکی اور اسکول آف افریقن اورینٹل اسٹڈیز لندن میں استاد کی خدمات انجام دیں۔
عبادت بریلوی اردو کے نامور نقاد اور محقق ہیں۔ ان کی بعض کتابیں ہندوپاک کی مختلف یونیورسٹیوں کے نصاب میں رہی ہیں۔ ان کی شہرت کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ ویسے انہوں نے اردو تنقید میں اپنی ایک مخصوص جگہ بنا لی ہے۔ اس حد تک کہ یہ نام فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ ان کی تصنیف و تالیف کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے۔ چند کے نام ہیں: ’’اردو تنقید کا ارتقا‘‘، ’’تنقیدی زاویے‘‘، ’’غزل اور مطالعہ غزل‘‘، ’’غالب کا فن‘‘، ’’روایت کی اہمیت‘‘، ’’جدید شاعری‘‘، ’’جدید اردو ادب‘‘ اور ’’میرتقی میر‘‘۔ یہ ساری کتابیں اہم سمجھی جاتی ہیں۔ طلبا کے لیے یہ مفید تو ہیں ہی اردو شعروادب کے مزاج کی تفہیم میں ذہین لوگوں کے لئے بھی راہیں متعین کرتی ہیں۔
عبادت بریلوی تنقید کی کوئی بوطیقا مرتب نہیں کرتے۔ نہ ہی کسی شعریات کی کنہہ میں داخل ہوتے ہیں۔ دراصل ان کا سروکار وضاحتی تجزیے سے ہے۔ ایسے تجزیے میں کسی صنف کے ابتدائی احوال سے لے کر ارتقائی مرحلے سبھی زیر بحث آجاتے ہیں۔ ان کا تجزیہ عام طور سے ہمدردانہ ہوتا ہے۔ وہ ادبی مسائل کی تہہ در تہہ پیچیدگی سے اپنا رشتہ قائم نہیں رکھتے بلکہ معنوی سطح پر ایسا سروکار رکھتے ہیں کہ ادب پارہ کے وہ احوال روشن ہوجائیں جو عام طور سے سطح پر ہوتے ہیں۔ وہ اپنی تنقیدی روش کو بوجھل نیں بناتے بلکہ تجزیے کے مقبول طریقہ کار کو اپناتے ہیں۔
عام طور سے نقاد اپنے علم کا بوجھ اپنے تجزیے میں اس طرح بھردیتا ہے کہ پڑھنے والا سراسیمہ ہوجاتا ہے اور علمیت کے اظہار کی پیچیدہ نفسیات اس کے لئے تفریح کا کوئی سامان بہم نہیں پہنچاتی لیکن عبادت بریلوی ایسے علمی بوجھ سے اپنی نگارشات کو گراں بار نہیں بناتے۔ کبھی کبھی ان کے یہاں تکرار لفظی و معنوی کا احساس ہوتا ہے اور یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ کہ اگر وہ اختصار اور جامعیت سے کام لیتے تو ان کی تحریریں اور بھی مفید ہوتیں۔ لیکن ان امور کو منہا کیجئے تو پھر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موصوف کی غایت دراصل کسی ادب پارے کی ایسی ترسیل ہے جہاں کوئی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔ طوالت کی شاید یہی وجہ ہے لیکن ذہین پڑھنے والے گاہے گاہے تکرار میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔
میر اور غالب پر ان کے مطالعات وقیع سمجھے جاتے ہیں۔ ان موضوعات کو انہوں نے کچھ مختلف طریقے سے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپنی تنقید نگاری کو وہ ایک واضح سمت دینا چاہ رہے ہیں اوریہ بھی کہ وہ اپنے موضوعات کے داخلی امور پر نگاہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن ایسی تحریریں ان کے آخری وقتوں کی نشانی ہیں۔ کہا جاسکتا ہے کہ اردو تنقید میں عبادت بریلوی کا ایک خاص رول ہے اور یہ رول اہم بھی ہے۔join rekhta family!
-
کارگزاریاں75
ادب اطفال2090
-
