- کتاب فہرست 182670
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
ڈرامہ928 تعلیم346 مضامين و خاكه1395 قصہ / داستان1607 صحت105 تاریخ3319طنز و مزاح611 صحافت203 زبان و ادب1722 خطوط750
طرز زندگی30 طب986 تحریکات273 ناول4342 سیاسی357 مذہبیات4814 تحقیق و تنقید6641افسانہ2691 خاکے/ قلمی چہرے244 سماجی مسائل110 تصوف2050نصابی کتاب452 ترجمہ4274خواتین کی تحریریں5826-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1292
- دوہا50
- رزمیہ103
- شرح181
- گیت63
- غزل1268
- ہائیکو11
- حمد58
- مزاحیہ31
- انتخاب1608
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4897
- مرثیہ387
- مثنوی752
- مسدس44
- نعت592
- نظم1221
- دیگر85
- پہیلی15
- قصیدہ183
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی273
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
عوض سعید کے افسانے
دوسری موت
آج خلاف معمول ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ہی جوزف نے اپنے کمرے کا جائزہ لیا، ڈرائنگ روم کا چوبی دروازہ جس پر ہلکے آسمانی رنگ کا پینٹ چڑھا ہوتا تھا اس پر صلیب کے نشان کو کسی نے بے طرح کھرچ دیا تھا، عقبی کھڑکی کے دونوں شیشوں پر ہلکی ہلکی خراشیں آ گئی تھیں،
پہلی تنخواہ
عبدالصمد خیراتی ہاسپٹل میں کمپونڈر تھا۔ چھے سال پہلے وہ یہاں وارڈ بوائے کی حیثیت سے داخل ہوا تھا اور چھ سال کی مسلسل محنت کے بعد آج اس نے ترقی کی یہ جست لگائی تھی، اس کا تعلیمی پس منظر میٹرک کلاس ہی میں الجھ کر رہ گیا، وہ آگے نہ پڑھ سکا۔ وہ آگے
گنبدِ بے در
پروفیسر اکرام نے خودکشی کر لی! یہ ایک ہولناک خبر کسی بہت بڑے دھماکے کی طرح اس کے کانوں سے ٹکرائی، وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئی ڈرائینگ روم کی کھڑکی کے قریب آ کر ٹھہر گئی۔ وہ گزرتے جاڑوں کی ایک طویل خوبصورت رات تھی، سرما کی برفیلی ہوائیں سائیں سائیں
ریت کے محل
وہ عجیب آدمی تھا۔ اس کے جسم کے سارے کل پرزے مضحکہ خیز حد تک بگڑے ہوئے تھے، موٹی موٹی ابھری ابھری سی آنکھیں باہر یوں نکل آئی تھیں جیسے کسی نے اس کا گلا دبا کر چھوڑ دیا ہو۔ کدو کی طرح لمبوترا سر، دبی دبی سی پیشانی، چپٹی سی ناک، ہونٹ بھی عجیب طرح کے،
بیدل صاحب
میرے مکان کے برابر بیدل صاحب کا مکان تھا، بڑا خوبصورت کشادہ سا مکان جس کی چھتیں طوفانی بارش میں بھی ٹپکتی نہ تھیں۔ باہر دروازے کی چوڑی پیشانی پر ایک سیاہ تختی جھومر ی طرح لٹک رہی تھی جس پر جلی حروف میں ’’بیدل‘‘ لکھا تھا۔ شام ہوتے ہی وہ ہاتھ میں پانوں
سائے کا سفر
سہ پہر کی ساعتیں تیزی سے شام کے دھندلکے میں تبدیل ہو رہی تھیں اور فضا میں ایک سوگوار سی اداسی رچی بسی تھی۔ پوسٹ مین ابھی تک نہیں آیا تھا۔ وہ بڑی بے چینی سے برآمدے میں ٹہل رہا تھا۔ گذشتہ ایک ہفتے سے وہ خط کے انتظار میں اپنی سدھ بدھ کھو چکا تھا، آج اسے
join rekhta family!
-
کارگزاریاں94
ادب اطفال1992
-
