Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Fana bulandshahri's Photo'

فنا بلند شہری

- 1986 | گجرانوالہ, پاکستان

معروف صوفی شاعر، اپنے مقبول کلام "میرے رشکِ قمر" سے بہت مشہور ہوئے، استاد قمر جلالوی کے شاگرد رہے

معروف صوفی شاعر، اپنے مقبول کلام "میرے رشکِ قمر" سے بہت مشہور ہوئے، استاد قمر جلالوی کے شاگرد رہے

فنا بلند شہری کا تعارف

تخلص : 'فنا'

اصلی نام : حنیف محمد

پیدائش :بلند شہر, اتر پردیش

وفات : 26 Nov 1986 | لاہور, پنجاب

رشتہ داروں : قمر جلالوی (استاد)

آغاز تو اچھا تھا فناؔ دن بھی بھلے تھے

پھر راس مجھے عشق کا انجام نہ آیا

فنا بلند شہری انڈیا بمقام بلند شہر میں پیدا ہوئے ۔ بچپن ہی سے ان میں شعر کہنے کی خداداد صلاحیتیں موجود تھیں لیکن شعر کی اصلاح اورغلطیوں کو درست کرنے کے لئے ان کو استاد کی تلاش تھی انہوں نے استاد قمر جلالوی کی شاگردی اختیار کی اور استاد محترم کی کرم نوازیوں سے شاعری میں اپنا ایک خاص مقام پایا۔

میں ہوں فناؔ قمر کی تجلی سے فیضیاب
دنیا میں ہے چراغِ ادب میری شاعری

فنا بلند شہری ایک شاعر ہونے کے ساتھ طریقت میں وہ محمد شیر میاں رحمتہ اللہ علیہ قادری نقشبندی پیلی بھیت انڈیا سے منسلک تھے اور یہی عقیدت مندی اور طریقت سے متاثر ہو کر فناؔ صاحب نے اپنی شاعری کو معرفت سے آراستہ کیا۔

انہوں نے اپنی زندگی میں بے شمار کلام کہے اپنی حیات میں ہی یہ حضرت الحاج خواجہ فقیر صوفی محمد نقیب اللہ شاہ صاحب آستانۂ عالیہ نقیب آباد شریف ضلع قصور سے دلی و روحانی عقیدت و محبت رکھتے تھے اور ان سے روحانی عقیدتی محبت اور دلی لگاؤ کے پیشِ نظر انہوں نے اپنے تمام کلام حضرت الحاج خواجہ فقیر صوفی محمد نقیب اللہ شاہ صاحب کے مریدِ خاص امان اللہ نظامی نقیبی درباری قوال آستانۂ عالیہ گارڈن ویسٹ کراچی کو دیدئے تھے اور یہ وصیت کی تھی کہ میرے کلاموں کو چھپوانے کے جملہ حقوق صرف حضرت الحاج خواجہ فقیر صوفی محمد نقیب اللہ شاہ صاحب کو ہوں گے۔

 ان کے کلام کو خصوصاً حضرت الحاج خواجہ فقیر صوفی محمد نقیب اللہ شاہ صاحب کی محافلِ سماع میں اکثر و بیشتر پڑھا جا چکا ہے اور سامعین اور مریدین میں بے حد مقبول ہوئے حضرت کی آستانۂ عالیہ کے درباری قوال صوفی محمد طفیل و ہمنوا قصوری محفلِ سماع میں فناؔ بلند شہری کا کلام پڑھ کر سامعین سے خوب داد حاصل کر چکے ہیں۔

فنا بلند شہری نے اپنی زندگی درویشانہ اور فقیرانہ بسر کی اور یہی وجہ تھی کہ وہ ہمیشہ صوفیائے کرام کی صحبت سے اور ان کے فیض و کرم سے مستفیض ہوتے تھے اپنی زندگی کے آخری ایام انہوں نے پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں موضع ڈاکخانہ آروپ شریف میں اختر شریف صابر حسین توال کیساتھ گزارے اور وہ داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کے سالانہ عرس کے موقع پر عرس میں شرکت کی غرض سے اختر شریف اور صابر حسین قوال کیساتھ لاہور گئے ۔ وہیں ان کو دل کا دورہ پڑا اور وصال فرمایا ان کو ان کی وصیت کے مطابق آروپ شریف ضلع گوجرانوالہ لایا گیا اور آروپ شریف میں انہیں دفن کیاگیا آج وہ ہم میں نہیں ہیں لیکن ان کے کلام نے ایسے نقوش چھوڑے ہیں کہ آج بھی وہ ہر محفلِ سماع میں زندہ جاوید نظر آتے ہیں۔

موضوعات

Recitation

بولیے