Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Faragh Rohvi's Photo'

فراغ روہوی

1956 - 2020 | کولکاتا, انڈیا

فراغ روہوی

غزل 18

نظم 34

اشعار 18

ہم سے تہذیب کا دامن نہیں چھوڑا جاتا

دشت وحشت میں بھی آداب لیے پھرتے ہیں

مجھ میں ہے یہی عیب کہ اوروں کی طرح میں

چہرے پہ کبھی دوسرا چہرا نہیں رکھتا

خوب نبھے گی ہم دونوں میں میرے جیسا تو بھی ہے

تھوڑا جھوٹا میں بھی ٹھہرا تھوڑا جھوٹا تو بھی ہے

کسی نے راہ کا پتھر ہمیں کو ٹھہرایا

یہ اور بات کہ پھر آئینہ ہمیں ٹھہرے

اک دن وہ میرے عیب گنانے لگا فراغؔ

جب خود ہی تھک گیا تو مجھے سوچنا پڑا

دوہا 3

کیسے اپنے پیار کے سپنے ہوں ساکار

تیرے میرے بیچ ہے مذہب کی دیوار

  • شیئر کیجیے

نفرت کے سنسار میں کھیلیں اب یہ کھیل

اک اک انساں جوڑ کے بن جائیں ہم ریل

  • شیئر کیجیے

بھول گئے ہر واقعہ بس اتنا ہے یاد

مال و زر پر تھی کھڑی رشتوں کی بنیاد

  • شیئر کیجیے
 

کتاب 25

ویڈیو 6

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر

فراغ روہوی

فراغ روہوی

فراغ روہوی

متعلقہ مصنفین

"کولکاتا" کے مزید مصنفین

Recitation

بولیے