- کتاب فہرست 188837
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2090
ڈرامہ1036 تعلیم392 مضامين و خاكه1556 قصہ / داستان1786 صحت109 تاریخ3609طنز و مزاح758 صحافت220 زبان و ادب1974 خطوط825
طرز زندگی29 طب1053 تحریکات299 ناول5062 سیاسی376 مذہبیات5061 تحقیق و تنقید7442افسانہ3034 خاکے/ قلمی چہرے292 سماجی مسائل121 تصوف2302نصابی کتاب570 ترجمہ4624خواتین کی تحریریں6309-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ5
- اشعار70
- دیوان1490
- دوہا53
- رزمیہ106
- شرح214
- گیت68
- غزل1396
- ہائیکو12
- حمد55
- مزاحیہ37
- انتخاب1680
- کہہ مکرنی7
- کلیات708
- ماہیہ21
- مجموعہ5426
- مرثیہ406
- مثنوی898
- مسدس62
- نعت613
- نظم1326
- دیگر83
- پہیلی16
- قصیدہ203
- قوالی18
- قطعہ74
- رباعی307
- مخمس16
- ریختی13
- باقیات27
- سلام36
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ20
- تاریخ گوئی31
- ترجمہ74
- واسوخت29
فارحہ ارشد کے افسانے
آنکھ کی پتلی کا تماشا
’’مجھے اس سے دس گھنٹے محبت ہوئی تھی صرف دس گھنٹے۔۔۔ اس کے بعد میرا دل خالی ہو گیا۔‘‘ وہ خالی نظروں سے دور کہیں ان دیکھے منظروں میں کھوئی کہہ رہی تھی۔ میں نے کچھ حیرانی اور قدرے دلچسپی سے اسے دیکھا اور بنا ٹوکے اسے کہنے دیا جو نجانے کب سے وہ کہنا
میری ہم رقص
یہ ایک عریاں شام تھی۔ جس کے برہنہ سینے پہ وہ رقصاں تھی اور رقص بھی ایسا کہ نرت نرت پہ وقت ٹھہر کر اس کے نازواندازپہ نچھاور ہونے لگا۔ ڈھولک اور طبلے والےنئی سے نئی گت پیش کر رہے تھے۔ بھدے نقوش مگر سریلی آواز والی مغنیہ نے تان باندھی پریشاں ہوکے
ننگے ہاتھ
اس روزخاندان میں طوفان آ گیا جب اس نے چچا کو اپنے ننگے ہاتھ سے چھو لیا۔ دالانوں اور بالکنیوں سے رنگین کڑھائیوں اور چمکتے ستاروں سے آراستہ دستانوں والے جانے کتنے ہاتھ برآمد ہوئے اور اسے گھسیٹتے ہوئے تاریکی میں گم ہو گئے۔ 'خدایا! مجھے ہمت دے میں
اماں ھو مونکھے کاری کرے ماریندا
جانے کب اسے یہ لگنے لگا کہ کوئی اٹھتے، بیٹھتے، سوتے، جاگتے اس کے ساتھ سائے کی طرح جڑا رہتا ہے۔ پانی بھرنے کے لئے مٹکا سر پہ رکھے وہ سہج سہج کر یوں زمیں پہ پاؤں دھرتی گویا انڈوں پہ چل رہی ہو۔ من کے بھیتر کیا چل رہا تھا وہ تو خود بھی بڑی بے خبر تھی۔
زمیں زادہ
وہ جس کے سر سے جنگلی کبوتروں کی خوشبو آتی تھی، اسے کافور کی بو نے بد حواس کردیا۔ اس بُو کے ادراک نے اسے انکار کا حرف سکھایا اور وہ رات کے اندھیرے میں وہاں سے بھاگ نکلا۔ کتنی کھائیوں میں گرا، کتنی چوٹیں کھائیں۔ کیسے زخموں نے نڈھال کیا، یہ ایک خوفناک
بی بانہ اور زوئی ڈارلنگ
بہت کلاسیکل پروفائل تھا بی بانہ کا۔۔۔ ڈ کنز اور روسٹیز کے پروفائل کی مانند۔ اٹھارویں صدی کی روسی اور ہسپانوی شاہزادیوں کی سی آن بان والی۔ یا پھر یوں جیسے چغتائی کی بنی تصویروں کے عشق بلب غزال رو نقوش اور ابھاروں میں جان پڑ گئی ہو۔ عمر خیام کی رباعیوں
join rekhta family!
-
کارگزاریاں77
ادب اطفال2090
-
