- کتاب فہرست 180352
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
ڈرامہ913 تعلیم341 مضامين و خاكه1363 قصہ / داستان1565 صحت104 تاریخ3266طنز و مزاح596 صحافت200 زبان و ادب1682 خطوط730
طرز زندگی30 طب972 تحریکات268 ناول4267 سیاسی350 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6488افسانہ2661 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2007نصابی کتاب426 ترجمہ4207خواتین کی تحریریں5761-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1250
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1257
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1572
- کہہ مکرنی6
- کلیات567
- ماہیہ20
- مجموعہ4856
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت586
- نظم1204
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ177
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی263
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
جی اے کلکرنی کے افسانے
مکتی
سامنے گہرے سبز رنگ کا پہاڑ گویا کسی کے انتظار میں کھڑا تھا۔ پہاڑ سے اوپر کو جاتا راستہ یوں دکھائی دے رہا تھا جیسے کوئی سفید سانپ لہراتا چلا جا رہا ہو۔ زخموں سے سلگتے ہوئے اپنے جسم کو اس نے ایک چٹان سے ٹکایا اور دل برداشتہ ساوہیں بیٹھ گیا۔ اتنا عرصہ ہوگیا
سوامی
پیڑوں کی پھنگیوں میں اٹکتا ہوا سورج سامنے ٹیکری کے پیچھے چھپ گیا اور اچانک چاروں طرف ایک دھند سی چھا گئی۔ اس کے پیروں کے نیچے وہ پکڈنڈی کسی عظیم الجثہ اژدھے کی مانند بےحس و حرکت پڑی تھی۔ ساتھ ہی اسے احساس بھی ہو گیا کہ اس نے پیدل راستے سے آکر غلطی کی
پرساد
بائیں طرف نیل گری کے اونچے اور گھنے درختوں کے سایوں میں پچھلی شاہراہ سے وہ مندر کی سمت جانے والی پگڈنڈی پر مڑ گیا۔ اس وقت چاروں طرف گہری نیلی دھند پھیلی ہوئی تھی اور جگہ جگہ بکھری خود رو جھاڑیوں کے جھنڈ دھندلی پرچھائیوں کی طرح غیرواضح لگ رہے تھے۔ لیکن
قاصد
شہر کی جانب آنے والی شاہراہ پر ایک رتھ برق رفتاری سے چلا آ رہا تھا۔ رتھ پر سمراٹ کا مخصوص نیلا پرچم لہرا رہا تھا۔ جس پر بڑے سے راج ہنس کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ دوارپال نے دور سے رتھ کو آتے ہوئے دیکھ لیا اور جلدی سے دروازے کا بڑا ساارگل ہٹا دیا۔ ارگل
غلام
اُن تنگ وتاریک گلیوں سے گزرتے ہوئے مسافرکو یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی مردہ جانور کی سڑی گلی آنت میں سے آگے کو سرکتا جا رہا ہے۔ چلتے چلتے اس کے پاؤں شل ہو گئے تھے۔ اس نے ایک ایک راستہ ایک ایک گلی چھان ڈالی تھی، جیسے کوئی الجھے ہوئے دھاگوں کو ایک
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1978
-
