- کتاب فہرست 179717
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح613 صحافت202 زبان و ادب1727 خطوط747
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4313 سیاسی355 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6667افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے249 سماجی مسائل111 تصوف2056نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5896-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1612
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4865
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت578
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
ہما فلک کے افسانے
حسرت
اسٹیشن سے باہر نکلتے ہی ہوا کی ایک سرد لہر نے ان کا استقبال کیا۔ اکا دکا لوگ آ جا رہے تھے اس لئے ستیشن والی تنہائی کا احساس وہاں نہیں تھا،ایک طرف چائے کا کھوکھا تھا، لڑکے نے دو کپ چائے لی اور ذرا پرے سٹریٹ لائٹ کے نیچے پڑے بینچ پر دونوں بیٹھ گئے۔ بینچ
اگر
’’سیمی ایک کپ چائے تو بنا دو۔ پلیز‘‘ ’’اس وقت؟ یہ کون سا وقت ہے چائے پینے کا ؟ رات کو نیند بھی نہیں آئےگی۔‘‘ سیمی جو کہ پوری طرح ناول میں گم تھی اسے یہ بے وقت کی راگنی بہت کھلی۔ ’’میرا ابھی موڈ ہے چائے پینے کا تو کیا اب میں صبح کا انتظار کروں؟‘‘ ’’افوہ۔۔۔
ایوارڈ
تالیوں کی گونج میں وہ سٹیج کی طرف بڑھی۔ آج اس کے لئے بہت بڑا دن تھا۔ اس کی خوشی کی انتہانہ تھی اور خوش ہوتی بھی کیوں نہیں آج وہ اپنی ایک نظم کی وجہ سے ملک کے سب سے بڑے ادبی ایوارڈ کی حقدار قرار پائی تھی۔ یہ اسکا دیرینہ خواب تھا، جو آج پورا ہونے جا رہا
وقت سے پرے
اونچی اونچی عمارتوں کے درمیان چلتے ہوئے وہ خود کو بہت بونا سا محسوس کرتا۔ اس نے ہوش سنبھالتے ہی ان عمارتوں، ان راستوں کو دیکھا تھا ان کے درمیان لاتعداد بار گزرا اتنی بار کہ اسے لگنے لگا تھا جہاں جہاں اس کے قدم پڑے ہیں وہاں تو گڑھے بن جانے چاہئیں تھے۔
زنجیریں
وہ چلتا جا رہا تھا۔ سفر کہاں سے شروع ہوا، اسے یاد تھا کہاں ختم ہوگا وہ نہیں جانتا تھا۔ بچپن کی کچھ دھندلی یادیں تھیں۔ باپ کا سخت گیر رویہ اور منہ پر دوپٹہ رکھ کر سسکتی ہوئی ماں __جواسے جب الماریاں الٹا کر پیسے نکالتے دیکھتی تو چیل کی طرح جھپٹ پڑتی،
ہلدی والی
سردیوں کی تعطیلات کی وجہ سے کچھ مہمان میری طرف آ رہے تھے۔۔۔ مہمانوں کی تواضح میں کسی قسم کی کمی نہ رہ جائے اس بات کا میں خاص خیال رکھتی تھی۔ اس مقصد کے لئے میں دو تین دن پہلے ہی تیاری شروع کر دیتی اور ہر معمولی سی بات کا بھی خیال رکھتی۔ میری اتنی محنت
تلاش
وہ بہت ہنستی تھی۔ بات بات پر کھلکھلا کر ہنستی۔ میری عادت ہے کہ میں کسی سے بہت جلد گھلتی ملتی نہیں۔ لیکن اس کے ساتھ کام کرنے کی وجہ سے دن کا بڑا حصہ اس کے ساتھ گزرتا تھا۔ تو پہلے روز سے ہی اس کی خوش مزاجی نے مجھے اتنا متاثر کیا کہ کچھ ہی دنوں میں اجنبیت
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
